ہانگ کانگ: پاکستان اور ہانگ کانگ خصوصی انتظامی خطے کی قیادت نے دوطرفہ تجارت، اقتصادی تعاون اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی کا چیو سے ملاقات کی۔ اجلاس میں ہانگ کانگ کے سیکریٹری برائے تجارت و اقتصادی ترقی الجرنن یاؤ ینگ واہ اور پاکستان کے قونصل جنرل ریاض احمد شیخ بھی شریک تھے۔
سرکاری بیان کے مطابق ملاقات میں دونوں فریقوں نے پاکستان اور ہانگ کانگ کے درمیان کاروباری اور اقتصادی روابط بڑھانے کی گنجائش پر گفتگو کی۔ چیف ایگزیکٹو جان لی نے بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ میں جام کمال خان کے خطاب کو سراہا، جس میں بین الاقوامی تعاون، رابطہ کاری اور مشترکہ اقتصادی خوشحالی پر زور دیا گیا تھا۔ انہوں نے علاقائی استحکام کو عالمی اقتصادی نمو کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کردار کا بھی ذکر کیا۔
پاکستانی وزیر تجارت نے ہانگ کانگ کو ایشیا کے اہم مالیاتی اور تجارتی مراکز میں شمار کرتے ہوئے پاکستانی برآمد کنندگان اور کاروباری اداروں کے لیے وہاں موجود مواقع کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ہانگ کانگ کی منڈی اور مالیاتی نظام پاکستان کے لیے مشرقی ایشیا کے کاروباری نیٹ ورکس سے روابط بڑھانے کا ایک ممکنہ ذریعہ ہیں، جبکہ پاکستان اپنی برآمدی مصنوعات اور سرمایہ کاری کے شعبوں کو زیادہ وسیع منڈیوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ملاقات میں تجارت اور اقتصادی تعاون کو مضبوط کرنے کا سیاسی عزم ظاہر کیا گیا، تاہم سرکاری اعلامیے میں کسی نئے تجارتی معاہدے، سرمایہ کاری پیکیج یا مخصوص مالی ہدف پر دستخط کی اطلاع نہیں دی گئی۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو اعلیٰ سطحی اقتصادی رابطے اور مستقبل کی شراکت داری کے لیے فریم ورک مضبوط کرنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی حتمی تجارتی معاہدے کے طور پر۔
بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ کے موقع پر ہونے والی یہ ملاقات پاکستان کی اس وسیع حکمت عملی سے جڑی ہے جس کے تحت حکومت برآمدات، علاقائی رابطہ کاری اور ایشیائی منڈیوں کے ساتھ کاروباری تعلقات بڑھانے پر زور دے رہی ہے۔ عملی نتائج کا انحصار بعد کی سرکاری و کاروباری ملاقاتوں، تجارتی سہولت کاری، سرمایہ کاروں کے روابط اور مخصوص شعبوں میں قابل عمل منصوبوں پر ہوگا۔ دونوں جانب سے عوامی روابط بڑھانے کا ذکر بھی کیا گیا، جو طویل مدتی تجارتی تعلقات کے ساتھ تعلیمی، پیشہ ورانہ اور کاروباری تبادلوں کو تقویت دے سکتا ہے۔




