اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی یومیہ نظرثانی کے تحت پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ وزارتِ توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کی 3 ستمبر کو جاری کردہ اطلاع کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 84 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 28 پیسے اضافہ کیا گیا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ 4 ستمبر 2026 سے ہوا۔

نظرثانی کے بعد پٹرول کی قیمت 346 روپے 16 پیسے سے بڑھ کر 349 روپے فی لیٹر ہو گئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 372 روپے 3 پیسے سے بڑھ کر 374 روپے 31 پیسے فی لیٹر مقرر ہوا۔ یہ تبدیلی ایک روز پہلے کی نظرثانی کے بعد سامنے آئی، جب 3 ستمبر کے لیے پٹرول 2 روپے 29 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل ایک روپیہ 11 پیسے مہنگا کیا گیا تھا۔

سرکاری ویب سائٹ پر 3 ستمبر کی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن تازہ خبروں میں درج کیا گیا، جبکہ ڈان، ایکسپریس ٹریبیون اور دیگر پاکستانی خبر رساں اداروں نے نئی شرحوں کی یکساں تفصیل رپورٹ کی۔ ڈان کے مطابق حکومت پٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔

حکومت نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال سے پیدا ہونے والی تیز تبدیلیوں کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ طے کی جائیں گی۔ اس نظام کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی بین الاقوامی رجحانات اور متعلقہ لاگت کو سامنے رکھتے ہوئے نئی قیمتوں کا تعین کرتی ہے، جس کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے۔

پٹرول زیادہ تر موٹر سائیکلوں، رکشوں، چھوٹی گاڑیوں اور نجی ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ براہِ راست شہری آمدورفت کے اخراجات سے جڑا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری، بجلی پیدا کرنے والے بڑے جنریٹرز اور مال برداری میں استعمال ہوتا ہے؛ چنانچہ اس کی نئی قیمت نقل و حمل اور کاروباری لاگت کے لیے بھی اہم ہے۔

قیمتوں میں یہ اضافہ کسی طویل مدت کے مقررہ پیکیج کے بجائے ایک دن کی سرکاری نظرثانی ہے۔ آئندہ شرحیں بھی یومیہ قیمت ساز طریقۂ کار اور عالمی تیل منڈی کی نقل و حرکت کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہیں۔ صارفین کے لیے قابلِ اطلاق نرخ وہی ہیں جو ہر روز پیٹرولیم ڈویژن کے تازہ نوٹیفکیشن میں درج کیے جاتے ہیں۔