وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 20 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی ہے۔ سرکاری اطلاع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل 6 روپے 47 پیسے مہنگا ہو کر 390 روپے 42 پیسے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 18 اگست سے کیا گیا۔
پیٹرول عموماً موٹر سائیکل، کار اور ہلکی مسافر گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی کا براہ راست اثر روزمرہ سفر اور گھریلو آمدورفت کے خرچ پر پڑتا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، بسوں، ٹرکوں، زرعی مشینری اور بعض صنعتی سرگرمیوں میں استعمال ہوتا ہے، جس کے باعث اس کی قیمت میں اضافہ سامان کی ترسیل اور پیداواری لاگت پر وسیع اثر ڈال سکتا ہے۔
قیمتوں میں یہ ردوبدل صارفین کے ماہانہ بجٹ کے لیے اہم ہے۔ ایک گاڑی میں پچاس لیٹر پیٹرول بھرنے کی صورت میں صرف موجودہ اضافے کی وجہ سے خرچ تقریباً 288 روپے 50 پیسے بڑھ جاتا ہے۔ اسی مقدار میں ڈیزل کے لیے اضافی خرچ تقریباً 323 روپے 50 پیسے بنتا ہے۔ اصل اثر ہر صارف کے استعمال اور خریدی جانے والی مقدار کے مطابق مختلف ہوگا۔
ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے سبزی، پھل، تعمیراتی سامان اور دوسری اشیا کی منڈی تک ترسیل مہنگی ہو سکتی ہے۔ تاہم کسی خاص شے کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوگا، یہ صرف ایندھن پر منحصر نہیں؛ مسافت، گاڑی کی کارکردگی، منڈی کی طلب، ذخیرہ اور کاروباری فیصلے بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے پیٹرولیم قیمت کے اضافے کو ہر چیز کی قیمت میں یکساں فوری اضافے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
سرکاری قیمتوں میں تبدیلی عالمی خام تیل اور تیار مصنوعات کی قیمت، شرح مبادلہ، حکومتی محصولات، لیوی اور مقامی لاگت کے مجموعی حساب سے متعلق ہوتی ہے۔ موجودہ مختصر سرکاری اطلاع میں بنیادی طور پر نئی خوردہ قیمتیں اور فی لیٹر تبدیلی بتائی گئی ہے؛ اس لیے کسی ایک عنصر کو پورے اضافے کی حتمی وجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
صارفین اور کاروباروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پمپ پر سرکاری طور پر مقررہ فی لیٹر نرخ دیکھیں اور رسید حاصل کریں۔ اگر کسی مقام پر اعلان شدہ قیمت سے مختلف رقم وصول کی جائے تو متعلقہ ضلعی یا ریگولیٹری حکام سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ آئندہ قیمتوں میں ردوبدل نئی سرکاری اطلاع کے مطابق ہوگا؛ موجودہ نرخ 18 اگست کے اعلان کی بنیاد پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔




