اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ایک اور اضافہ کر دیا ہے، جس کا اطلاق 15 ستمبر 2026 سے ہوگا۔ وزارتِ توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق موٹر اسپرٹ یعنی پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 42 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 375 روپے 82 پیسے سے بڑھ کر 380 روپے 24 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 6 روپے 10 پیسے بڑھا کر 403 روپے 32 پیسے سے 409 روپے 42 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
یہ حالیہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چھٹا اضافہ ہے۔ حکومت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، درآمدی لاگت اور دیگر متعلقہ عوامل کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو قیمتوں پر نظرثانی کر رہی ہے۔ تازہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات کے باعث عالمی خام تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں۔
کاروباری ذرائع کے مطابق پیر کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل سے اوپر جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 102 ڈالر فی بیرل کے قریب رہی۔ خطے میں بحری جہازوں اور سعودی توانائی تنصیبات کے خلاف حملوں کے بعد رسد کے خدشات بڑھے، جس کا اثر عالمی مارکیٹ میں قیمتوں پر پڑا۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی تیل کی قیمتوں اور ترسیلی اخراجات میں اضافے کا مقامی قیمتوں پر براہ راست دباؤ پڑتا ہے۔
حکومت نے پیٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی مجموعی مقدار تقریباً 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر تقریباً 100 روپے فی لیٹر برقرار رکھی ہے۔ نئی قیمتیں ایسے وقت نافذ ہوئی ہیں جب حکومت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ہدفی ایندھن ریلیف اسکیم پر بھی کام کر رہی ہے۔ اس علیحدہ اسکیم کا مقصد کم آمدنی والے صارفین کو بلند ایندھن قیمتوں کے اثرات سے جزوی تحفظ دینا ہے، تاہم تازہ قیمتوں کا نوٹیفکیشن تمام صارفین کے لیے نئی عمومی خوردہ شرحیں مقرر کرتا ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹ، مال برداری اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی لاگت پر مزید دباؤ آنے کا امکان ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل بالخصوص زرعی مشینری، بین الاضلاعی مال برداری اور پبلک ٹرانسپورٹ میں وسیع استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ کاروباری لاگت اور مہنگائی کے عمومی رجحان کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

