اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 4 ستمبر 2026 کے لیے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول 2 روپے 84 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو کر 349 روپے فی لیٹر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 28 پیسے اضافہ کرکے اسے 374 روپے 31 پیسے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 4 ستمبر سے ہے۔

یہ اضافہ ایک روز پہلے ہونے والی نظرِ ثانی کے فوراً بعد سامنے آیا۔ 3 ستمبر کے لیے حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 29 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 1 روپے 11 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔ مسلسل روزانہ تبدیلیوں کے باعث صارفین، ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور کاروباری اداروں کے لیے ایندھن کی لاگت تیزی سے بدل رہی ہے، تاہم ہر شعبے پر حتمی مالی اثر اس کے استعمال، کرایوں اور قیمت منتقل کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہوگا۔

حکومت نے 17 جولائی کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے جائزے کا یومیہ نظام متعارف کرایا تھا، جس نے سابقہ ہفتہ وار طریقۂ کار کی جگہ لی۔ اس تبدیلی کا پس منظر عالمی خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ، امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ سے رسد کے خدشات بتائے گئے تھے۔ یومیہ نوٹیفکیشن کا مقصد عالمی منڈی کی تبدیلی کو نسبتاً جلد مقامی قیمت میں منتقل کرنا ہے، لیکن اس نظام کے تحت صارفین کو مختصر وقفوں میں بار بار اضافے یا کمی کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی خام تیل، مال برداری، بیمہ اور زرمبادلہ کی قدر میں تبدیلی مقامی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ درآمدی لاگت بڑھنے کی صورت میں ملک کے تجارتی بل اور زرمبادلہ کی ضروریات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل بالخصوص مال برداری، بسوں، زرعی مشینری اور بعض صنعتی سرگرمیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی نقل و حمل اور پیداواری لاگت کے مباحث میں اہم سمجھی جاتی ہے۔

عالمی منڈی میں 3 ستمبر کو مشرقِ وسطیٰ کی نئی کشیدگی کے دوران تیل کے نرخ چھ ہفتوں کی بلند سطح کے قریب پہنچے۔ رپورٹ شدہ کاروباری اوقات میں برینٹ خام تیل تقریباً 97.29 ڈالر فی بیرل اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 93.04 ڈالر فی بیرل تک گیا۔ یہ قیمتیں دن کے دوران بدل سکتی ہیں، اس لیے انہیں اسی وقت کی مارکیٹ سطح سمجھا جائے۔

حکومتی نوٹیفکیشن میں موجودہ اضافہ صرف 4 ستمبر کے لیے نافذ قیمتوں کی وضاحت کرتا ہے۔ آئندہ قیمت کا تعین یومیہ جائزے، عالمی نرخوں اور متعلقہ حکومتی حساب کے بعد الگ نوٹیفکیشن سے ہوگا۔