وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک روز بعد دوبارہ ردوبدل کرتے ہوئے پیٹرول 1 روپے 8 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 51 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق بدھ 2 ستمبر سے ہوگا، جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 343 روپے 87 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 370 روپے 92 پیسے مقرر کی گئی ہے۔

یہ اضافہ یکم ستمبر کے لیے جاری گزشتہ نظرثانی کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔ ایک روز قبل پیٹرول کی قیمت 342 روپے 79 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 370 روپے 41 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔ حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیز اتار چڑھاؤ کے باعث حال ہی میں روزانہ کی بنیاد پر مقامی ایندھن قیمتوں کا تعین شروع کیا ہے، اس لیے مختصر وقفے میں نئی قیمتوں کا اعلان اسی پالیسی کا حصہ ہے۔

عالمی تیل منڈی میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی فوجی کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے رسد میں رکاوٹ کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ برینٹ خام تیل 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر گیا اور منگل کو قیمتوں میں مزید نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا۔ پاکستان اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمت اور شرح مبادلہ میں تبدیلی مقامی پٹرولیم نرخوں پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

پیٹرول شہری آمدورفت، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور نجی گاڑیوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل مال برداری، بسوں، زرعی مشینری اور صنعتی سرگرمیوں کے لیے اہم ہے۔ دونوں مصنوعات کی قیمت میں اضافہ نقل و حمل اور پیداواری اخراجات کے ذریعے مہنگائی پر بالواسطہ اثر ڈال سکتا ہے، اگرچہ ایک دن کی محدود قیمت تبدیلی کا مجموعی اثر دیگر معاشی عوامل کے ساتھ مل کر سامنے آتا ہے۔

روزانہ قیمتوں کے نظام میں صارفین اور کاروباری اداروں کو عالمی مارکیٹ کی تبدیلیاں نسبتاً تیزی سے منتقل ہوں گی۔ موجودہ علاقائی جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی غیر یقینی برقرار ہے، اس لیے آئندہ دنوں میں بھی مقامی نرخ تبدیل ہو سکتے ہیں۔ نئی قیمتیں سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق 2 ستمبر کے لیے قابل اطلاق ہیں اور انہیں گزشتہ روز کے نرخوں سے الگ تازہ حکومتی فیصلہ سمجھا جانا چاہیے۔