وفاقی حکومت نے روزانہ قیمتوں کے نئے نظام کے تحت مسلسل تیسرے روز پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 29 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 1 روپے 11 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق جمعرات 3 ستمبر سے ہوگا۔
تازہ نظرثانی کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 346 روپے 16 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 372 روپے 3 پیسے ہوگئی ہے۔ حکومت پیٹرول پر ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مد میں مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔
یہ اضافہ یکم اور 2 ستمبر کی قیمت تبدیلیوں کے بعد آیا ہے۔ 2 ستمبر کے لیے پیٹرول 343 روپے 87 پیسے اور ڈیزل 370 روپے 92 پیسے فی لیٹر مقرر تھا۔ یوں عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کو مقامی قیمتوں میں روزانہ منتقل کرنے کی پالیسی کے تحت صارفین کو مختصر وقفوں میں مسلسل تبدیلیوں کا سامنا ہے۔
پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ ایران امریکا جنگ کے بعد عالمی قیمتوں میں تیز تبدیلی کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں روزانہ بنیاد پر طے کی جائیں گی۔ مشرق وسطیٰ سے رسد میں خلل کے خدشات، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی خام تیل کی قیمتیں مقامی نرخوں کے اہم بیرونی عوامل ہیں۔
پیٹرول نجی ٹرانسپورٹ، موٹر سائیکلوں اور رکشوں جبکہ ڈیزل مال برداری، بسوں، زرعی مشینری اور صنعت میں وسیع استعمال ہوتا ہے۔ مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹ اور پیداواری اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور اس کا اثر صارف قیمتوں تک منتقل ہونے کا امکان ہے۔ تاہم مہنگائی پر حتمی اثر عالمی قیمتوں کی مدت، شرح مبادلہ اور مقامی کاروباری لاگت سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہوگا۔




