اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 4 ستمبر کے لیے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول 2 روپے 84 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 349 روپے فی لیٹر ہو گیا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 28 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اور نئی قیمت 374 روپے 31 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی۔

یہ تبدیلی ایک دن پہلے ہونے والی قیمت میں اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔ 3 ستمبر کے لیے پٹرول کی قیمت 346 روپے 16 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 372 روپے 3 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا تھا۔ اس طرح مسلسل یومیہ نظرثانی کے نتیجے میں صارفین کو عالمی تیل منڈی اور درآمدی لاگت میں تبدیلی کا اثر نسبتاً فوری طور پر مقامی قیمتوں میں نظر آ رہا ہے۔

حکومت نے جولائی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے لیے روزانہ نظرثانی اور نوٹیفکیشن کا طریقہ کار متعارف کرایا تھا۔ یہ نظام پہلے استعمال ہونے والے نسبتاً طویل وقفے کے قیمت تعین سے مختلف ہے۔ اس پس منظر میں عالمی خام تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی کشیدگی سے پیدا ہونے والی اتار چڑھاؤ مقامی قیمتوں کے لیے اہم عوامل بنے ہوئے ہیں۔

پٹرول کی قیمت میں اضافہ براہ راست نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور چھوٹے کاروباروں کے ایندھن اخراجات پر اثر انداز ہوتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کا استعمال مال برداری، بسوں، زرعی مشینری اور متعدد تجارتی سرگرمیوں میں ہونے کی وجہ سے اس کی قیمت نقل و حمل اور سپلائی چین کے اخراجات سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ تاہم کسی ایک دن کے اضافے کے مہنگائی پر حتمی اثر کا تعین وسیع تر قیمت رجحانات اور کاروباری لاگت کے منتقل ہونے کی رفتار سے ہوتا ہے۔

تازہ نوٹیفکیشن صرف 4 ستمبر کے لیے مقرر کردہ قیمتوں کی تصدیق کرتا ہے۔ روزانہ قیمت کے موجودہ نظام کے تحت اگلی تبدیلی عالمی منڈی، درآمدی لاگت اور سرکاری فارمولے کے مطابق نئی نظرثانی سے مشروط ہوگی۔ اس لیے موجودہ نرخوں کو طویل مدت کے لیے مستقل قیمت تصور نہیں کیا جا سکتا۔

عوام اور کاروباری اداروں کے لیے اس وقت بنیادی مصدقہ اعداد یہی ہیں کہ پٹرول 349 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 374.31 روپے فی لیٹر مقرر ہے۔ مستقبل کی کسی بھی قیمت کے بارے میں حتمی معلومات پیٹرولیم ڈویژن کے نئے باضابطہ نوٹیفکیشن سے ہی طے ہوں گی۔