اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 13 پیسے فی لیٹر کمی اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 74 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی ایکس ڈپو قیمتیں ہفتہ 5 ستمبر سے پیر 7 ستمبر 2026 تک نافذ رہیں گی، جس کے بعد روزمرہ قیمتوں کے موجودہ طریقۂ کار کے تحت اگلا جائزہ متوقع ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے بعد موٹر اسپرٹ، یعنی پٹرول، کی قیمت 349 روپے سے کم ہو کر 345 روپے 87 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔ اس کے برعکس ہائی اسپیڈ ڈیزل 374 روپے 31 پیسے سے بڑھ کر 378 روپے 5 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا۔ دونوں مصنوعات کی سمت مختلف رہی: پٹرول کے بنیادی ریفائنری اخراجات میں کمی آئی، جبکہ ڈیزل کی لاگت بڑھی۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق پٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 238 روپے 17 پیسے سے کم ہو کر 235 روپے 42 پیسے فی لیٹر ہوئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 267 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر 271 روپے 18 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔ یہ اعداد قیمت کی تشکیل کے ایک حصے کو ظاہر کرتے ہیں؛ صارف کو ملنے والی حتمی ایکس ڈپو قیمت میں حکومتی محصولات اور مارکیٹنگ و ڈیلر مارجن بھی شامل ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دونوں مصنوعات پر پٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے فی لیٹر برقرار رکھی گئی۔ آئل مارکیٹنگ کمپنی مارجن 7 روپے 87 پیسے اور ڈیلر مارجن 9 روپے 98 پیسے فی لیٹر بتایا گیا۔ کسٹمز ڈیوٹی پٹرول پر 20 روپے 65 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 15 روپے 68 پیسے فی لیٹر برقرار رہی۔ یہ تفصیل واضح کرتی ہے کہ عالمی خام تیل یا تیار مصنوعات کی قیمت میں تبدیلی پوری طرح اور اسی تناسب سے صارف قیمت میں منتقل نہیں ہوتی، کیونکہ متعدد مقررہ اجزا بھی قیمت میں شامل ہوتے ہیں۔
پٹرول عام طور پر موٹر سائیکلوں، کاروں اور نجی سفر کے اخراجات سے براہ راست جڑا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کا استعمال مال برداری، بسوں، زرعی مشینری اور بعض صنعتی سرگرمیوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ نقل و حمل اور رسد کے اخراجات پر دباؤ ڈال سکتا ہے، تاہم کسی بھی شے کی قیمت پر حقیقی اثر رسد کے معاہدوں، فاصلوں اور کاروباری لاگت کے دوسرے عوامل پر منحصر ہوگا۔
حکومت نے یہ تبدیلی اوگرا کے حساب اور پٹرولیم قیمتوں کے سرکاری طریقۂ کار کے تحت کی ہے۔ دستیاب نوٹیفکیشن صرف 5 سے 7 ستمبر کی مدت کے لیے نرخ طے کرتا ہے؛ اس سے بعد کی قیمتوں کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ صارفین اور کاروبار کے لیے اگلا متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن ہی نئی قابل اطلاق قیمتوں کا مستند ذریعہ ہوگا۔




