وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ سید مصطفی کمال نے پاکستان میں نئی ذیلی قومی پولیو ویکسینیشن مہم کا افتتاح کیا ہے، جس کا ہدف 97 ہائی رسک اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں تک رسائی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق مہم 2 نومبر سے 8 نومبر 2026 تک جاری رہے گی اور اس میں دو لاکھ سے زیادہ فرنٹ لائن پولیو ورکرز حصہ لیں گے۔
مہم کا افتتاح اسلام آباد میں نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسداد پولیو میں ہوا، جہاں وزیر صحت نے بچوں کو ویکسین کے قطرے پلا کر سرگرمی کا آغاز کیا۔ حکام کے مطابق مہم کا مقصد ان اضلاع میں ویکسینیشن کوریج بڑھانا ہے جہاں پولیو وائرس کی منتقلی کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہے اور ہر اہل بچے تک بار بار رسائی کو یقینی بنانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان میں یہ مہم بیک وقت چلانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ دونوں ممالک دنیا کے آخری ملک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی endemic ہے۔ سرحد پار آبادی کی نقل و حرکت کے باعث صحت حکام مشترکہ اور مربوط کوششوں کو وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے اہم قرار دیتے ہیں۔ وزیر صحت نے بالخصوص جنوبی خیبر پختونخوا میں مسلسل transmission، رسائی اور سکیورٹی سے متعلق چیلنجز کا ذکر کیا اور وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر رابطہ مضبوط رکھنے پر زور دیا۔
سرکاری اعداد کے مطابق پاکستان نے 1994 میں قومی انسداد پولیو پروگرام شروع ہونے کے بعد کیسز میں 99.8 فیصد کمی کی ہے۔ 2025 میں 31 کیس رپورٹ ہوئے تھے جبکہ 2026 میں اب تک سات کیسز رپورٹ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اعداد وائرس کے خلاف بڑی پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن صحت حکام کے مطابق باقی transmission ختم کرنے کے لیے مسلسل ویکسینیشن اور نگرانی ضروری ہے۔
پولیو کا کوئی علاج موجود نہیں اور یہ مستقل فالج یا بعض صورتوں میں موت کا سبب بن سکتا ہے۔ حکام نے والدین اور نگہداشت کرنے والوں سے اپیل کی ہے کہ ہر مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ویکسین کے دو قطرے ضرور پلوائیں۔ مہم کی کامیابی کا دارومدار صرف مقررہ ہدف پر نہیں بلکہ ایسے بچوں تک رسائی پر بھی ہوگا جو سابقہ راؤنڈز میں رہ گئے تھے یا جن علاقوں میں سکیورٹی، نقل مکانی اور مقامی مزاحمت کی وجہ سے ویکسینیشن مشکل رہی ہے۔
