وفاقی حکومت نے وزیرِ اعظم کی میری ٹائم ریفارمز ٹاسک فورس کے تحت بندرگاہی اصلاحات کا تازہ جائزہ جاری کرتے ہوئے یکساں پورٹ ٹیرف، ڈیجیٹل تجارتی نظام اور کارگو کلیئرنس کے وقت میں کمی کو نمایاں پیش رفت قرار دیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کی 4 ستمبر 2026 کی سرکاری اطلاع کے مطابق پاکستان سنگل ونڈو اور فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ کے نفاذ سے اوسط کارگو کلیئرنس وقت 53 گھنٹے سے کم ہو کر 18 گھنٹے رہ گیا ہے۔
یہ 18 گھنٹے کا عدد پہلی بار اسی روز سامنے نہیں آیا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام نے جولائی میں ٹاسک فورس کی پیش رفت پر مشترکہ بریفنگ کے دوران بھی یہی پیمانہ بتایا تھا۔ اس لیے تازہ اعلان کو پہلے سے جاری اصلاحات کی سرکاری پیش رفت رپورٹ سمجھنا درست ہے، نہ کہ 4 ستمبر کو اچانک نافذ ہونے والی ایک نئی کلیئرنس پالیسی۔ حکومت نے اوسط وقت میں کمی کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ مختلف بندرگاہوں، مصنوعات اور جانچ کی اقسام میں اصل دورانیہ الگ ہو سکتا ہے۔
سرکاری جائزے کے مطابق ملک کی بندرگاہوں کے لیے پہلی جامع ترقیاتی حکمتِ عملی تیار کی گئی اور یکساں پورٹ ٹیرف نظام متعارف کرایا گیا۔ اس اقدام کا مقصد مختلف بندرگاہوں اور آپریٹرز کے نرخوں کو زیادہ قابلِ موازنہ بنانا، غیر واضح چارجز کم کرنا اور مقابلے و شفافیت کو بہتر کرنا بتایا گیا ہے۔ تاہم صارفین اور شپنگ کمپنیوں پر حقیقی اثر جانچنے کے لیے ٹیرف شیڈول، استثنا، ٹرمینل چارجز اور سروس معیار کے الگ اعداد بھی اہم ہوں گے۔
فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ میں درآمد کنندہ یا کلیئرنگ ایجنٹ اور جائزہ لینے والے افسر کے براہِ راست رابطے کو کم کرکے دستاویزات کی ڈیجیٹل تقسیم اور جانچ کی جاتی ہے۔ ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ اس سے صوابدیدی رابطہ کم، شفافیت بہتر اور ضابطہ جاتی تعمیل مضبوط ہوئی۔ پاکستان سنگل ونڈو کا وسیع مقصد کسٹمز، ریگولیٹرز، بندرگاہی اداروں، بینکوں اور لاجسٹکس کمپنیوں کو ایک مربوط ڈیجیٹل نظام میں لانا ہے تاکہ کاغذی کارروائی اور متعدد دفاتر کے چکر کم ہوں۔
جولائی کی سرکاری بریفنگ میں ٹاسک فورس نے 99 اصلاحاتی اقدامات میں سے 85 مکمل ہونے کا بتایا تھا۔ ان میں نیشنل پورٹس ماسٹر پلان، ٹرانزٹ ٹریڈ طریقۂ کار میں تبدیلی، شپ بنکرنگ کے قواعد، کراچی اور گوادر میں ڈریجنگ، جہاز اور جہاز سازی پر بعض کسٹمز و سیلز ٹیکس ختم کرنا اور قانونی تنازعات میں پھنسے ہزاروں کنٹینروں سے بندرگاہی جگہ خالی کرانا شامل تھے۔ ہر اقدام کی تکمیل کا معیار اور عملی نتیجہ الگ انتظامی و مالی آڈٹ سے جانچا جانا باقی رہتا ہے۔
ایف بی آر نے یہ بھی کہا تھا کہ فی گڈز ڈیکلریشن اوسط ریونیو 6.8 ملین روپے سے بڑھ کر تقریباً 7.7 ملین روپے ہوا اور درآمدی ٹیکس وصولی میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔ حکام نے اس اضافے کا ایک حصہ بہتر انفورسمنٹ و تعمیل اور ایک حصہ درآمدی حجم سے منسوب کیا۔ یہ اعداد سرکاری جائزہ ہیں؛ ان سے بندرگاہی کارکردگی، تجارتی لاگت اور بدعنوانی میں کمی کا مکمل آزاد نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید تفصیلی ڈیٹا درکار ہوگا۔
اگلے مرحلے میں حکومت اوسط کسٹمز کلیئرنس وقت 12 گھنٹے تک لانے، پیشگی گڈز ڈیکلریشن کا حصہ بڑھانے، بندرگاہی کسٹمز کو 24 گھنٹے چلانے اور پرانے وی بوک نظام کو جدید بنانے کا ہدف رکھتی ہے۔ وی بوک کے بڑے ماڈیول رواں مالی سال میں لانے اور مکمل ٹیکنالوجی اپ گریڈ جون 2028 تک ختم کرنے کی منصوبہ بندی بتائی گئی ہے۔ یہ اہداف ابھی آئندہ عمل درآمد، بھرتی، نظامی انضمام اور بجٹ سے مشروط ہیں۔
تازہ سرکاری جائزے کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ حکومت بندرگاہی ٹیرف، کسٹمز جانچ اور تجارتی دستاویزات کو ایک مشترکہ اصلاحاتی پروگرام کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے۔ کامیابی کا پائیدار پیمانہ صرف اعلان کردہ اوسط وقت نہیں بلکہ سامان رکنے کی مجموعی مدت، لاگت، اپیل و شکایت کا نظام، برآمد کنندگان کا تجربہ اور مختلف بندرگاہوں پر یکساں سروس معیار ہوگا۔




