اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں غربت کے تازہ سرکاری تخمینے کے مطابق 2024-25 میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی ہے، جس سے گزشتہ برسوں میں غربت کم کرنے کی پیش رفت بڑی حد تک واپس پلٹ گئی۔ یہ بات انہوں نے آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، او پی ایچ آئی، کے ساتھ تعاون کے حوالے سے ایک تقریب میں کہی۔

وزارت منصوبہ بندی اور او پی ایچ آئی ملک کے کثیر جہتی غربت انڈیکس، یعنی ایم پی آئی، کو اپ ڈیٹ کرنے کے امکانات پر کام کر رہے ہیں۔ موجودہ پیمانہ صحت، تعلیم اور معیار زندگی کے نتائج کو بنیادی بنیاد بناتا ہے، تاہم زیر غور تجاویز میں آبادی کے دباؤ، موسمیاتی جھٹکوں اور مواقع تک رسائی میں نئی رکاوٹوں کو بھی غربت کی پیمائش کا حصہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

احسن اقبال کے مطابق سیاسی عدم استحکام، پالیسیوں میں تسلسل کی کمی، معاشی بحران اور موسمیاتی آفات نے ترقیاتی کامیابیوں کو متاثر کیا۔ وزارت کے مطابق آئندہ قومی غربت پیمائش میں پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈز میژرمنٹ سروے 2026-27 کے اعداد و شمار استعمال کیے جائیں گے اور موسمیاتی کمزوری، عدم تحفظ، نوجوانوں کی محرومی، صنفی عدم مساوات، ڈیجیٹل اخراج، ابتدائی بچپن کی نشوونما، غذائیت، پست قامتی اور ہجرت جیسے عوامل کی اہمیت کا جائزہ لیا جائے گا۔

وزیر منصوبہ بندی نے اس بات پر زور دیا کہ نئے اشاریوں اور موضوعاتی مطالعات کو قابل اعتماد ڈیٹا اور مضبوط طریقہ کار پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ قومی غربت پیمائش کی ساکھ اور پالیسی افادیت برقرار رہے۔ حکومت اور او پی ایچ آئی قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی سطح پر کثیر جہتی غربت کے تجزیے کا امکان بھی دیکھ رہے ہیں، جس کے لیے 2023 کی مردم شماری سمیت دستیاب اعداد و شمار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے حلقہ وار غربت کے ایک تجزیے پر کام کیا ہے، تاہم اسے عوامی سطح پر جاری کرنے کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ احسن اقبال نے کہا کہ حلقہ وار تجزیے کو منتخب نمائندوں کی درجہ بندی کے بجائے ہدفی ترقیاتی سرمایہ کاری کی ضرورت ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے ماضی کے اعداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مالیاتی غربت 2013-14 میں 29.5 فیصد سے کم ہو کر 2015-16 میں 24.3 فیصد اور 2018-19 میں 21.9 فیصد رہ گئی تھی، مگر تازہ سرکاری تخمینہ 2024-25 کے لیے 28.9 فیصد ہے۔ یہ اعداد غربت کی سمت میں نمایاں الٹ پھیر کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم مستقبل میں مجوزہ نئے ایم پی آئی اشاریوں کا اطلاق موجودہ مالیاتی غربت کے تخمینے سے الگ طریقہ کار کے تحت ہوگا۔

حکومت کے سامنے اہم پالیسی سوال یہ ہے کہ محدود ترقیاتی وسائل کو تعلیم، صحت، پانی، ہنرمندی، سماجی تحفظ اور روزگار کے مواقع میں کس طرح ہدفی انداز میں لگایا جائے۔ مجوزہ تعاون کا مقصد غربت کی پیمائش کو صرف عددی رپورٹنگ تک محدود رکھنے کے بجائے وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی منصوبہ بندی سے جوڑنا ہے۔