اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان میں نجی ایکویٹی مارکیٹ کو وسعت دینے کے لیے نیا قومی پالیسی فریم ورک تیار کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے، جس کے ذریعے ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے 10 سے 15 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری متحرک کرنے کا ہدف زیر غور ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر نگرانی قومی نجی ایکویٹی فریم ورک سے متعلق وزیر اعظم کی کمیٹی نے ریگولیٹری اصلاحات، ٹیکس پالیسی اور مقامی سرمائے کو کاروباری منصوبوں تک پہنچانے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔
اجلاس سے متعلق دستیاب تفصیلات کے مطابق حکومت فریم ورک کو آئندہ دو ہفتوں میں حتمی شکل دینا چاہتی ہے۔ بعض پالیسی اقدامات آئندہ مالی سال 2027-28 کے فنانس بل کے ذریعے متعارف کرائے جا سکتے ہیں، جبکہ ایسے ریگولیٹری اقدامات جن کے لیے بجٹ قانون سازی ضروری نہیں، فریم ورک مکمل ہونے کے بعد شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ حکومت نے اس مرحلے پر 10 سے 15 ارب ڈالر کو سرمایہ کاری کے ممکنہ ہدف کے طور پر پیش کیا ہے؛ یہ رقم ابھی حاصل شدہ سرمایہ کاری نہیں ہے۔
کمیٹی نے برطانیہ، مشرق وسطیٰ اور بھارت سمیت مختلف منڈیوں کے نجی ایکویٹی ماڈلز کا جائزہ لیا۔ زیر بحث تجاویز میں فنڈ اسٹرکچر، سرمایہ کاروں کے داخلے اور اخراج کے واضح قواعد، شفافیت، ٹیکس کے یکساں اصول اور مالیاتی اداروں کی شرکت شامل ہے۔ اسٹیٹ بینک نے حالیہ ریگولیٹری تبدیلیوں کے بارے میں بتایا کہ کسی ایک نجی ایکویٹی فنڈ میں بینکوں کے لیے قابل اجازت سرمایہ کاری کی حد 10 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کی گئی ہے۔
حکومت مقامی ادارہ جاتی سرمائے کو بھی اس مارکیٹ کی بنیاد بنانا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے بینکوں، انشورنس کمپنیوں، میوچل فنڈز، پنشن اسکیموں، ترقیاتی مالیاتی اداروں، مقامی کارپوریشنز اور فیملی آفسز کے دستیاب وسائل کو قابل عمل کاروباری منصوبوں اور نجی ایکویٹی فنڈز کی طرف لانے کے امکانات زیر غور آئے۔ وزیر خزانہ نے مقامی سرمائے کی فعالیت کو فوری ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ فعال ملکی مارکیٹ بعد میں غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاری اور مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
ٹیکس کے شعبے میں نجی ایکویٹی فنڈز کو پاس تھرو وہیکل کے طور پر برتنے اور ٹیکس سرمایہ کار کی سطح پر عائد کرنے سمیت تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ بین الاقوامی ماڈلز کو پاکستان کے معاشی اور ریگولیٹری حالات کے مطابق پرکھا جائے اور ایسا انتظام نہ بنایا جائے جو ٹیکس آربیٹریج یا غیر ارادی ریگولیٹری تفاوت پیدا کرے۔
فریم ورک کا حتمی اثر اس کی منظوری، قانونی و ریگولیٹری تبدیلیوں اور حقیقی سرمایہ کاری کے فیصلوں پر منحصر ہوگا۔ فی الحال حکومت نے پالیسی تیاری اور سرمایہ کاری کے امکانات کا ہدف بیان کیا ہے، اس لیے مجوزہ 10 سے 15 ارب ڈالر کو یقینی یا پہلے سے طے شدہ سرمایہ کاری سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
