اسلام آباد/دوحہ: پاکستان اور قطر نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے نئے شعبوں میں تعاون آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دوحہ میں پاکستان قطر جوائنٹ ٹاسک فورس برائے تجارت و سرمایہ کاری کے دوسرے اجلاس میں زراعت، غذائی تحفظ، مینوفیکچرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بحری نقل و حمل اور انفراسٹرکچر سمیت متعدد شعبوں میں عملی امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
ڈان میں شائع اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور قطر کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید نے کی۔ اجلاس میں اپریل 2026 میں ہونے والے پہلے سیشن کے بعد پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور تجارت میں اضافے، سرمایہ کاری کی سہولت کاری اور صنعتی شراکت داری کے لیے مزید اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا۔ پاکستان سے متعلقہ وزارتوں کے نمائندوں نے ورچوئل شرکت کی جبکہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے ٹاسک فورس کے سیکریٹریٹ کے طور پر کارروائی کو مربوط کیا۔
پاکستان نے پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے پر جلد دستخط کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے باقی رسمی مراحل مکمل کرنے کے لیے قطر کی حمایت جاری رکھنے کی درخواست کی۔ پاکستانی حکام کے مطابق ملک اپنی داخلی منظوری کا عمل مکمل کرکے منظور شدہ متن 31 دسمبر 2025 کو جی سی سی سیکریٹریٹ کو بھیج چکا ہے۔
اجلاس میں قطر کو ہڈی سمیت گوشت کی پاکستانی برآمدات پر پابندی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ پاکستانی فریق نے بتایا کہ جانوروں کی صحت اور خوراک کے حفاظتی تقاضوں سے متعلق تکنیکی دستاویز قطری حکام کو فراہم کی جا چکی ہے اور اس مسئلے کے جلد حل کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ زرعی تعاون میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان اور قطر کی حسد فوڈ کے درمیان چاول کی فراہمی کے مجوزہ مفاہمتی معاہدے پر بھی بات ہوئی، جو وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
پاکستان نے قطر کو جدید زراعت، اناج ذخیرہ کرنے کے مراکز، سائلوز، کولڈ اسٹوریج اور مربوط کولڈ چین میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اس کے علاوہ نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی کے تناظر میں آٹوموبائل شعبے، مشترکہ مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی منتقلی، آئی ٹی و ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، شپنگ اور بحری نقل و حمل میں مواقع پیش کیے گئے۔ مجوزہ کراچی حیدرآباد موٹروے کو بھی قطری سرمایہ کاری کے ممکنہ منصوبے کے طور پر سامنے رکھا گیا۔
دونوں ملکوں نے پہلے اجلاس میں شناخت کیے گئے 11 تکنیکی ورکنگ گروپس کو جلد فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ گروپس لاجسٹکس، ہوا بازی، ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ، معدنیات، زراعت، سیاحت، فن ٹیک، صحت، تعلیم، صنعتی ترقی اور آئی ٹی و اسٹارٹ اپس جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ موجودہ اجلاس سرمایہ کاری کے امکانات اور تجاویز پر پیش رفت ہے؛ رپورٹ میں ان تمام منصوبوں کے لیے حتمی مالی معاہدوں یا سرمایہ کاری کی رقم کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
