اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی دونگ سے ملاقات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطوں، زرعی جدیدکاری اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی پیش رفت کا جائزہ لیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں فریقوں نے علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور پائیدار امن و استحکام کے لیے مکالمے اور سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیا۔

ڈان میں شائع اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات اسلام آباد میں ہوئی۔ اسحاق ڈار نے پاکستان اور چین کے درمیان آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ میں جاری پیش رفت کو سراہا۔ دفتر خارجہ کے بیان میں بتایا گیا کہ بات چیت میں سی پیک کے ساتھ رابطہ کاری، تجارت و سرمایہ کاری، زراعت کی جدیدکاری اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط کو آگے بڑھانے پر توجہ دی گئی۔

نائب وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کے مسلسل تبادلوں کی اہمیت بھی اجاگر کی، جسے دونوں ملک اپنے طویل المدتی دوطرفہ تعلقات اور نئی دور کی مشترکہ مستقبل کی کمیونٹی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ملاقات میں کسی نئے مالی پیکیج، قرض، منصوبے کی حتمی منظوری یا سرمایہ کاری کی مخصوص رقم کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے کسی نئے سی پیک منصوبے کے باضابطہ آغاز کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔

یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان اور چین سی پیک کے اگلے مرحلے میں روایتی انفراسٹرکچر کے ساتھ صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی، برآمدی پیداوار اور نجی شعبے کی شراکت کو زیادہ اہمیت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رواں ماہ سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے 22 رکنی چینی کاروباری وفد نے اسلام آباد کا دورہ بھی کیا تھا، جہاں زراعت، معدنیات، مینوفیکچرنگ اور خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔

پاکستانی حکام ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں تقریباً 25 ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری آئی، جبکہ اگلے مرحلے میں نجی شعبے کے اشتراک اور ٹیکنالوجی منتقلی کو بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ یہ سابقہ سرکاری تخمینے ہیں؛ تازہ ملاقات میں ان اعداد میں کسی نئی سرمایہ کاری کا اضافہ یا کوئی تازہ مجموعی رقم جاری نہیں کی گئی۔

علاقائی امور پر دونوں نمائندوں نے تفصیلات عام کیے بغیر مکالمے اور سفارتکاری کو طویل المدتی امن اور استحکام کے لیے ضروری قرار دیا۔ اس طرح ملاقات کا بنیادی نتیجہ موجودہ دوطرفہ ایجنڈے کی پیش رفت کا جائزہ، تعاون کے ترجیحی شعبوں کی توثیق اور اعلیٰ سطحی رابطوں کو جاری رکھنے پر زور ہے، نہ کہ کسی نئے معاہدے کی حتمی منظوری۔