اسلام آباد: وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے ربیع 2026-27 کے لیے ملک میں کھاد کی مجموعی دستیابی کا جائزہ لینے کے بعد سپلائی کی صورت حال کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔ صوبائی طلب کے تخمینوں کی بنیاد پر رواں ربیع سیزن میں یوریا کی کھپت تقریباً 35 لاکھ 96 ہزار ٹن رہنے کی توقع ہے، جو گزشتہ ربیع میں تقریباً 35 لاکھ 63 ہزار ٹن تھی۔

ربیع پاکستان کے زرعی کیلنڈر کا اہم سیزن ہے جس میں گندم سمیت کئی بنیادی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ یوریا اور دیگر کھادوں کی بروقت دستیابی فصل کی پیداوار، کسانوں کی لاگت اور غذائی تحفظ کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ اسی لیے وفاقی اور صوبائی ادارے سیزن سے پہلے مقامی پیداوار، ذخائر، متوقع کھپت اور ضرورت پڑنے پر درآمدی انتظامات کا جائزہ لیتے ہیں۔

وزارت کے جائزے میں صوبوں کی جانب سے فراہم کردہ طلب کے اعداد و شمار کو مدنظر رکھا گیا۔ متوقع یوریا کھپت میں گزشتہ سیزن کے مقابلے میں معمولی اضافہ دکھائی دیتا ہے۔ اس تخمینے کا مقصد مارکیٹ میں ممکنہ دباؤ کی پیشگی نشاندہی اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنانا ہے تاکہ کاشت کے اہم مراحل پر کسانوں کو کھاد کی کمی کا سامنا نہ ہو۔

حکومت کی جانب سے مجموعی دستیابی کو تسلی بخش قرار دینا موجودہ قومی سطح کے تخمینے کی عکاسی کرتا ہے، تاہم اس سے ہر ضلع یا منڈی میں یکساں قیمت اور رسد کی ضمانت اخذ نہیں کی جا سکتی۔ ماضی میں بعض علاقوں میں نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی، قیمتوں کے فرق اور موسمی طلب کے باعث مقامی سطح پر قلت یا اضافی قیمتوں کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

ربیع سیزن میں گندم کی پیداوار قومی غذائی سلامتی کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ کھاد کی مناسب مقدار اور بروقت استعمال فصل کی پیداوار پر اثر انداز ہوتا ہے، جبکہ مہنگی کھاد کسانوں کے پیداواری اخراجات میں اضافہ کرتی ہے۔ اس لیے سرکاری نگرانی صرف مجموعی مقدار تک محدود نہیں بلکہ صوبائی تقسیم اور مارکیٹ دستیابی پر بھی منحصر رہتی ہے۔

وزارت کے موجودہ جائزے کے مطابق قومی سطح پر فوری بڑے سپلائی بحران کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ تاہم سیزن آگے بڑھنے کے ساتھ حقیقی کھپت، مقامی پیداوار، گیس کی دستیابی اور صوبائی طلب میں تبدیلی سے صورت حال متاثر ہو سکتی ہے۔ متوقع 35 لاکھ 96 ہزار ٹن یوریا کھپت ایک منصوبہ بندی تخمینہ ہے، حتمی استعمال کا عدد سیزن مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔