لاہور: پاکستان ریلوے نے حالیہ ٹرین حادثات اور آپریشنل مسائل کے بعد آپریشن سے متعلق افسران کی چھٹیاں رواں سال 31 دسمبر تک منسوخ کر دی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ریلوے نیٹ ورک پر نگرانی بڑھانا، حفاظتی طریقہ کار کی پابندی بہتر بنانا اور بار بار پیش آنے والے حادثات کے اسباب پر فوری توجہ دینا بتایا گیا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیر ریلوے نے مسلسل حادثات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آپریشنل نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی جائے اور حفاظتی قواعد پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ وزارت اور ریلوے انتظامیہ کی سطح پر افسران کی موجودگی بڑھانے کے لیے چھٹیوں کی پابندی کو سال کے اختتام تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ریلوے کے مختلف روٹس پر حادثات نے مسافروں کی حفاظت اور نظام کی آپریشنل نگرانی کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں۔ حکام کی توجہ صرف حادثے کے بعد امدادی ردعمل تک محدود رکھنے کے بجائے ٹریک، سگنلنگ، رولنگ اسٹاک، اسٹیشن آپریشن اور عملے کی ذمہ داریوں سمیت روزمرہ نگرانی بہتر بنانے پر مرکوز کی جا رہی ہے۔
دستیاب رپورٹ کے مطابق وزیر ریلوے نے واضح کیا کہ غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ تاہم ہر حالیہ حادثے کی وجہ ایک جیسی قرار نہیں دی گئی، اور نہ ہی کسی مخصوص افسر کو تمام واقعات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ انفرادی حادثات میں ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا جانا ضروری ہوگا۔
افسران کی چھٹیاں منسوخ کرنا بذات خود ریلوے کے بنیادی ڈھانچے یا تکنیکی خامیوں کا مستقل حل نہیں، لیکن انتظامیہ اسے فوری نگرانی مضبوط بنانے کے اقدام کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اس دوران فیلڈ افسران کی دستیابی سے معائنوں، آپریشنل رپورٹنگ اور ہنگامی فیصلوں میں تسلسل پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پاکستان ریلوے کے لیے آئندہ دو ماہ میں اصل امتحان یہ ہوگا کہ انتظامی سختی حادثات کی شرح اور آپریشنل بے ضابطگیوں میں عملی کمی لاتی ہے یا نہیں۔ موجودہ حکم 31 دسمبر تک افسران کی چھٹیوں سے متعلق ہے؛ اسے مستقل سروس رول یا طویل مدتی ادارہ جاتی پالیسی کی تبدیلی سمجھنا درست نہیں ہوگا، جب تک ریلوے کی جانب سے مزید باقاعدہ احکامات جاری نہ کیے جائیں۔
