اسلام آباد: پاکستان ریلوے نے ملک کے مختلف حصوں میں پرانی اور متاثرہ ریلوے پٹریوں کی تجدید کے لیے تقریباً 27.5 ارب روپے مالیت کے منصوبوں پر کام تیز کردیا ہے۔ منصوبوں کا بنیادی مقصد ایسے حصوں کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کرنا ہے جہاں ٹریک کی عمر، تکنیکی حالت یا مسلسل استعمال کے باعث ٹرینوں کی رفتار اور آپریشنل کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق ٹریک رینیول پروگرام میں ریل، سلیپر اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کی تبدیلی یا مرمت شامل ہے۔ ریلوے نیٹ ورک کے کئی حصوں پر رفتار کی عارضی پابندیاں عائد کرنا پڑتی ہیں، اور ٹریک کی بحالی سے ان پابندیوں کو مرحلہ وار کم کرنے، سفر کا وقت بہتر بنانے اور حادثات کے خطرات گھٹانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان ریلوے کا مرکزی مین لائن نیٹ ورک مسافر اور مال بردار دونوں ٹریفک کے لیے اہم ہے، مگر کئی حصوں میں دہائیوں پرانا انفراسٹرکچر مسلسل دیکھ بھال اور سرمایہ کاری کا تقاضا کرتا ہے۔ بڑے پیمانے پر مکمل مین لائن اپ گریڈ کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر ٹریک کی تجدید اس لیے ضروری سمجھی جاتی ہے کہ موجودہ نظام کو قابل استعمال اور محفوظ رکھا جاسکے۔

یہ سرمایہ کاری ریلوے کی مجموعی جدید کاری کا متبادل نہیں بلکہ موجودہ نیٹ ورک کی بحالی کا حصہ ہے۔ منصوبوں کے فوائد اس وقت زیادہ واضح ہوں گے جب تجدید شدہ حصوں پر تکنیکی معائنہ مکمل ہو، رفتار کی پابندیاں کم ہوں اور ٹرین آپریشن میں قابل پیمائش بہتری آئے۔ لاگت اور کام کی مقررہ حدود مختلف پیکیجز اور روٹس کے مطابق تقسیم ہوتی ہیں، اس لیے 27.5 ارب روپے کی مجموعی رقم کو کسی ایک لائن یا ایک ہی تعمیراتی معاہدے کی لاگت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔