اسلام آباد: پاکستان ریلوے نے ادارے کو جدید، مؤثر، مسافر دوست اور مالی طور پر پائیدار بنانے کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک اصلاحاتی روڈ میپ منظور کیا ہے۔ وزارت ریلوے کے ایک عہدیدار کے مطابق منصوبے میں مال برداری کے کاروبار کو مضبوط کرنا، مسافر سہولیات بہتر بنانا، نجی شعبے کی شرکت بڑھانا اور پورے ریلوے نظام میں ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنا بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔

اصلاحاتی منصوبے کے تحت مین لائن ون (ایم ایل ون) کی اپ گریڈیشن کے بعد ریلوے کا قومی مال برداری کی منڈی میں حصہ موجودہ تقریباً 8 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کے قریب لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے کوئلہ، کنٹینرز، سیمنٹ، کھاد، راک فاسفیٹ اور دیگر بڑی مقدار میں منتقل ہونے والی اشیا کی ریل کے ذریعے نقل و حمل بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔

وزارت کے عہدیدار کے مطابق ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن مکمل ہونے کے بعد مسافر ٹرانسپورٹ میں ریلوے کا حصہ موجودہ 5 فیصد سے بڑھا کر 7.52 فیصد کرنے کا بھی ہدف ہے۔ جدید کاری کے پروگرام میں ایم ایل ون کے ساتھ ایم ایل ٹو اور ایم ایل تھری کوریڈورز کی بہتری شامل ہے تاکہ لائن کی گنجائش، حفاظتی معیار اور آپریشنل کارکردگی بہتر ہو اور سفر کا وقت کم کیا جا سکے۔

روڈ میپ میں فریٹ ٹرمینلز، مارشلنگ یارڈز اور مختلف ذرائع نقل و حمل کو جوڑنے والے لاجسٹکس پارکس کی ترقی کے علاوہ ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کی سہولیات بہتر بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ریلوے کو مسافر اور مال برداری دونوں شعبوں میں زیادہ مسابقتی بنانا ہے۔

ڈیجیٹل تبدیلی کے حصے میں بڑے اسٹیشنوں پر وائی فائی، رابطہ نظام کے ذریعے ای ٹکٹنگ، ٹرینوں کی حقیقی وقت میں نگرانی، مسافر شکایات کا انتظام، اسمارٹ ریلوے اسٹیشن، خودکار کمانڈ اینڈ کنٹرول، ڈیجیٹل فریٹ بکنگ، خودکار وزن مشینیں اور فریٹ پارسل مینجمنٹ جیسی سہولیات شامل ہیں۔ رابطہ ایپ پہلے ہی بکنگ اور ادائیگی کی سہولت فراہم کر رہی ہے، جبکہ ایس اے پی پر مبنی ای آر پی نظام مالیات، خریداری، انوینٹری، اسٹورز، تنخواہوں اور انسانی وسائل کے انتظام میں استعمال ہو رہا ہے۔

منصوبے میں منتخب ریلوے اسپتالوں اور اسکولوں کا انتظام آؤٹ سورس کرنے اور تجارتی زمین کی ترقی میں نجی شعبے کی شرکت بڑھانے کا ارادہ بھی شامل ہے۔ وزارت کے مطابق نجی سرمایہ کاری اور شراکت داری سے سرکاری مالی بوجھ کم کرنے، خدمات کے معیار میں بہتری اور آمدنی بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس روڈ میپ کے نتائج کا انحصار بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں، بالخصوص ایم ایل ون، کی تکمیل اور اصلاحات کے مرحلہ وار نفاذ پر ہوگا۔ دستیاب تفصیلات میں پورے پروگرام کی مجموعی لاگت یا مکمل ہونے کی حتمی مدت نہیں بتائی گئی، اس لیے عملی پیش رفت متعلقہ منصوبوں کے بجٹ، معاہدوں اور نفاذ کے آئندہ مراحل سے واضح ہوگی۔