اسلام آباد: پاکستان نے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ فروخت کے ذریعے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر حاصل کر لیے ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے 3 ستمبر کو جاری بیان میں اس لین دین کو ایک ہی مرحلے میں پاکستان کی اب تک کی سب سے بڑی بین الاقوامی بانڈ فروخت قرار دیا۔ وزارت کے مطابق پیشکش کے مقابلے میں تقریباً دو گنا، یعنی قریب 6 ارب ڈالر کے آرڈرز موصول ہوئے۔
فروخت کے پہلے حصے میں 5.5 سالہ مدت کا 1 ارب 75 کروڑ ڈالر کا بانڈ شامل ہے، جس پر سالانہ کوپن شرح 7.5 فیصد رکھی گئی۔ دوسرے حصے میں 10 سالہ مدت کا 1 ارب 25 کروڑ ڈالر کا بانڈ 7.9 فیصد کوپن شرح پر جاری کیا گیا۔ دونوں حصوں کو جمع کرنے سے کل اجرا 3 ارب ڈالر بنتا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق آرڈر بک میں مختلف عالمی منڈیوں اور خطوں سے ادارہ جاتی سرمایہ کار شامل تھے۔ حکومت نے اس طلب کو پاکستان کی بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی اور طویل مدتی سرکاری قرض لینے کی صلاحیت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ یہ حکومتی تشریح ہے؛ بانڈ کی اصل مالی لاگت اس کے کوپن، مدت، مستقبل کے زرمبادلہ نرخ اور اصل رقم کی ادائیگی سے جڑی رہے گی۔
تازہ یورو بانڈ پاکستان کے تجدید شدہ گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کے تحت پہلا بڑا اجرا ہے۔ وزارت نے کہا کہ حکمتِ عملی کا مقصد صرف نیا قرض حاصل کرنا نہیں بلکہ مالیاتی ذرائع میں تنوع، قرضوں کی مدت بڑھانا، قلیل مدتی ری فنانسنگ کے خطرات کم کرنا اور موزوں مواقع پر نسبتاً مہنگی ذمہ داریوں کو طویل مدتی فنانسنگ سے تبدیل کرنا بھی ہے۔
اس سے پہلے اپریل 2026 میں پاکستان نے تین سالہ یورو بانڈ کے ذریعے ابتدائی طور پر 50 کروڑ ڈالر حاصل کیے تھے۔ مضبوط طلب کے بعد گرین شو آپشن استعمال کرتے ہوئے اس حجم کو بڑھا کر 75 کروڑ ڈالر کر دیا گیا تھا۔ ڈان کے مطابق اس بانڈ کا کوپن 6.975 فیصد تھا اور اس کی میعاد اپریل 2029 میں پوری ہوگی۔ پاکستان نے اپریل میں واجب الادا تقریباً 1.4 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی بھی کی تھی، جس کے بعد بین الاقوامی قرض منڈی میں نئی قیمت کا حوالہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔
وزارتِ خزانہ نے اس لین دین کی تکمیل میں ڈیبٹ مینجمنٹ آفس اور مشترکہ بک رنرز سٹی، ڈوئچے بینک، ایمریٹس این بی ڈی، ایم یو ایف جی اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کے کردار کو سراہا۔ بانڈ فروخت سے حکومت کو فوری طور پر زرمبادلہ کی فنانسنگ ملتی ہے، تاہم یہ رقم قرض ہے اور متعلقہ کوپن ادائیگیوں کے ساتھ مقررہ تاریخوں پر اصل زر واپس کرنا ہوگا۔
اس اجرا کی اہمیت حجم، مدت اور آرڈر بک کے اعتبار سے ہے۔ 10 سالہ حصے کی طلب یہ ظاہر کرتی ہے کہ کچھ سرمایہ کار پاکستان کے نسبتاً طویل مدتی سرکاری قرض کو خریدنے کے لیے تیار ہوئے، لیکن اس سے ملکی معیشت کے تمام خطرات ختم ہونے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ آئندہ اثرات کا جائزہ قرض کے استعمال، ادائیگیوں کے شیڈول، زرمبادلہ ذخائر اور مجموعی بیرونی قرض کی حکمتِ عملی کے تناظر میں لیا جائے گا۔




