پاکستان نے بین الاقوامی قرض منڈی میں بانڈز کے ذریعے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر کی فنانسنگ حاصل کر لی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے وزارتِ خزانہ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اس اجرا کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کی مجموعی طلب تقریباً 6 ارب ڈالر رہی، یعنی پیش کیے گئے حجم سے قریب دو گنا۔ حکومت نے اس پیش رفت کو پاکستان کی بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی اور حالیہ خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے۔

اس سے قبل پاکستان نے امریکی ڈالر میں دو حصوں پر مشتمل بینچ مارک بانڈ پیشکش کا عمل شروع کیا تھا، جس میں پانچ سال اور دس سال کی مدت کے بانڈ شامل تھے۔ حتمی ٹرانزیکشن کا حجم 3 ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔ بانڈ اجرا کے ذریعے حکومت بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ قرض کے ذرائع میں تنوع لانے کی کوشش کرتی ہے، تاہم اس طرح کی فنانسنگ کی اصل لاگت کو کوپن، حتمی ییلڈ، مدت اور مستقبل کی ادائیگیوں کے ساتھ دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔

تقریباً 6 ارب ڈالر کی آرڈر بک سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی علامت ہے، لیکن اسے بذاتِ خود معیشت کے تمام خطرات ختم ہونے کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ عالمی شرح سود، پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات، زرمبادلہ کے ذخائر، مالی خسارہ اور آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق پیش رفت مستقبل میں قرض لینے کی لاگت اور مارکیٹ رسائی پر اثر انداز رہیں گے۔

پاکستان کئی برسوں کے وقفے اور محدود بین الاقوامی مارکیٹ رسائی کے بعد دوبارہ بڑے پیمانے پر تجارتی بیرونی قرض کی منڈی میں سرگرم ہوا ہے۔ حالیہ ریٹنگ اپ گریڈز نے مارکیٹ کے تاثر میں کچھ بہتری پیدا کی ہے، جبکہ حکومت اسے مالی استحکام کی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ دوسری طرف ماہرین کے لیے اہم پیمانہ یہ ہوگا کہ نئی فنانسنگ سے مجموعی بیرونی قرض کے پروفائل، سودی ادائیگیوں اور آئندہ برسوں کے ری فنانسنگ خطرات پر کیا اثر پڑتا ہے۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے ٹرانزیکشن کے مکمل مالیاتی شرائط اور سرمایہ کاروں کی جغرافیائی یا ادارہ جاتی تقسیم کی مزید تفصیل سامنے آنے پر اس اجرا کی لاگت اور معیار کا زیادہ جامع جائزہ ممکن ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ بنیادی پیش رفت 3 ارب ڈالر کا اجرا اور تقریباً 6 ارب ڈالر کی عالمی طلب ہے۔