کراچی: رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کا علاقائی ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ مزید وسیع ہوا ہے، جس سے برآمدات اور درآمدات کے درمیان موجود ساختی فرق ایک بار پھر نمایاں ہو گیا۔ 27 اکتوبر کی معاشی رپورٹنگ کے مطابق جولائی سے ستمبر کے عرصے میں خطے کے اہم ممالک کے ساتھ پاکستان کی تجارت میں درآمدات کا حجم برآمدات کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہا۔
علاقائی تجارت میں چین پاکستان کا سب سے بڑا شراکت دار ہے اور مجموعی درآمدی بل میں اس کا حصہ نمایاں ہے۔ مشینری، برقی آلات، صنعتی خام مال، کیمیکلز اور دیگر تیار مصنوعات کی درآمدات پاکستان کی پیداواری ضروریات کے لیے اہم ہیں، لیکن ان کے مقابلے میں چین کو پاکستانی برآمدات محدود رہنے سے دوطرفہ تجارتی خسارہ بڑا رہتا ہے۔ اسی طرح بعض دوسرے علاقائی ممالک کے ساتھ تجارت میں بھی پاکستان کو درآمدی دباؤ کا سامنا ہے۔
افغانستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت اور خطے کی دیگر منڈیوں کے ساتھ تجارت کی نوعیت ایک جیسی نہیں۔ کچھ ممالک کو پاکستان زرعی مصنوعات، ٹیکسٹائل، سیمنٹ، ادویات اور دیگر اشیا برآمد کرتا ہے، جبکہ بعض منڈیوں سے خام مال یا تیار مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں۔ سرحدی پابندیاں، ادائیگی کے مسائل، نقل و حمل کی لاگت اور سیاسی تعلقات میں اتار چڑھاؤ بھی علاقائی تجارت کے حجم کو متاثر کرتے ہیں۔
معاشی پالیسی کے تناظر میں علاقائی تجارتی خسارہ صرف درآمدات کم کرنے کا مسئلہ نہیں بلکہ برآمدی مسابقت بڑھانے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پاکستان کو اپنی مصنوعات کے لیے قریبی منڈیوں تک بہتر رسائی، تجارتی سہولت کاری، سرحدی انفراسٹرکچر، معیار کی تصدیق اور تیز ادائیگی کے نظام کی ضرورت ہے۔ جغرافیائی قربت کے باعث علاقائی تجارت میں نقل و حمل کے اخراجات دور دراز منڈیوں کے مقابلے میں کم کیے جا سکتے ہیں، لیکن عملی رکاوٹیں اس ممکنہ فائدے کو محدود کرتی ہیں۔
پہلی سہ ماہی کے اعدادوشمار پورے مالی سال کے حتمی نتیجے کی پیش گوئی نہیں کرتے، کیونکہ درآمدی طلب، عالمی اجناس کی قیمتیں، شرح مبادلہ اور برآمدی آرڈرز سال کے دوران تبدیل ہو سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ رجحان یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کے لیے علاقائی تجارت میں برآمدات کا حصہ بڑھانا اور درآمدی ضروریات کو زیادہ مؤثر طریقے سے منظم کرنا بدستور اہم پالیسی چیلنج ہے۔ آئندہ سہ ماہیوں کے سرکاری اعدادوشمار سے واضح ہوگا کہ یہ خسارہ برقرار رہتا ہے یا برآمدی کارکردگی میں بہتری سے فرق کم ہوتا ہے۔

