اسلام آباد: پاکستان کا نو علاقائی ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں 26.62 فیصد بڑھ کر 4.97 ارب ڈالر ہو گیا، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 3.93 ارب ڈالر تھا۔ ڈان کی 27 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے مرتب کردہ تازہ اعداد و شمار میں برآمدات کی کمی اور درآمدات میں نمایاں اضافے نے مجموعی فرق کو وسیع کیا۔

جولائی سے ستمبر کے دوران افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کو پاکستانی برآمدات 6.72 فیصد کم ہو کر 944.24 ملین ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ حجم تقریباً 1.01 ارب ڈالر تھا۔ اس کے برعکس ان ممالک سے درآمدات 19.79 فیصد بڑھ کر 5.92 ارب ڈالر ہو گئیں، جو ایک سال پہلے 4.94 ارب ڈالر تھیں۔

اعداد و شمار کے مطابق خسارے میں اضافے کا سب سے بڑا حصہ چین کے ساتھ تجارت سے آیا۔ چین سے درآمدات 19.76 فیصد بڑھ کر 5.82 ارب ڈالر ہوئیں، جبکہ گزشتہ سال پہلی سہ ماہی میں یہ 4.85 ارب ڈالر تھیں۔ چین کے لیے پاکستانی برآمدات 17.95 فیصد بڑھ کر 663.57 ملین ڈالر تک پہنچیں، تاہم درآمدی حجم بہت بڑا ہونے کے باعث دوطرفہ خسارہ مزید بڑھا۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی علاقائی خسارے میں اضافے کا تقریباً 82.18 فیصد حصہ چین کے ساتھ خسارے کے اضافے سے منسلک تھا۔

افغانستان کے ساتھ تجارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان کی افغانستان کو برآمدات 88.34 فیصد کم ہو کر 18.86 ملین ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 161.76 ملین ڈالر تھیں۔ رپورٹ میں سرحدی تجارت کی معطلی کو اس کمی کے اہم عوامل میں شمار کیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کو برآمدات بھی 2.96 فیصد کم ہو کر 174.77 ملین ڈالر رہیں۔

بھارت سے درآمدات 68.90 فیصد بڑھ کر 61.74 ملین ڈالر ہوئیں، جبکہ زیر جائزہ سہ ماہی میں بھارت کو پاکستانی برآمدات ریکارڈ نہیں ہوئیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ علاقائی تجارت میں پاکستان کی درآمدی ضرورت اور برآمدی رسائی کے درمیان فرق بڑھا ہے۔

تجارتی خسارے کے یہ اعداد کسی ایک ماہ کی صورت حال نہیں بلکہ مالی سال کی پہلی تین ماہ کی مجموعی تصویر پیش کرتے ہیں۔ آئندہ سہ ماہیوں میں علاقائی سرحدی تجارت، چین سے درآمدی طلب، پاکستانی برآمدات کی رفتار اور کرنسی و صنعتی حالات اس رجحان کی سمت طے کرنے میں اہم ہوں گے۔