کراچی/اسلام آباد: دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ صومالی قزاقوں کے قبضے سے بازیاب کرائے گئے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کے عملے میں شامل تین پاکستانی شہری ہلاک ہوئے، جبکہ تین پاکستانی زخمی ہیں۔ ڈان کے مطابق حکومت متاثرہ پاکستانی ملاحوں اور جاں بحق افراد کی میتوں کی وطن واپسی کے لیے انتظامات پر کام کر رہی ہے۔

پالاؤ کے پرچم بردار ایم ٹی آنر 25 کو اپریل میں صومالی قزاقوں نے اغوا کیا تھا۔ جہاز پر مجموعی طور پر 19 افراد کا عملہ موجود تھا جن میں 10 پاکستانی شامل تھے۔ نیم خودمختار پنٹ لینڈ کی بحری سکیورٹی فورسز نے جہاز کو بازیاب کرانے کے لیے آپریشن کیا اور بعد میں اعلان کیا کہ ٹینکر حکومتی کنٹرول میں آ گیا ہے۔

پنٹ لینڈ کی وزارت اطلاعات کے مطابق آپریشن شروع ہونے سے پہلے قزاقوں نے پانچ عملہ ارکان کو قتل کیا، جن میں تین پاکستانی، ایک بھارتی اور ایک میانمار کا شہری شامل تھا۔ چار دیگر افراد زخمی ہوئے، جن میں تین پاکستانی اور ایک بھارتی شہری شامل ہیں۔ زخمیوں کے علاج کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

انصار برنی ٹرسٹ سے وابستہ وکیل قرۃ العین نے ڈان کو ایک الگ بیان میں کہا کہ قزاقوں نے سکیورٹی فورسز کے قریب آنے پر یرغمالیوں کو ڈیک پر لا کر ان کے ہاتھ باندھے اور مبینہ طور پر تاوان کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق فورسز کی پیش قدمی کے دوران قزاقوں نے یرغمالیوں پر فائرنگ کی۔ یہ تفصیل فلاحی تنظیم کی فراہم کردہ روایت ہے؛ واقعے کے تمام عملی پہلوؤں پر کسی مکمل آزادانہ تحقیق کا نتیجہ رپورٹ میں موجود نہیں۔

متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے میتیں اور زخمی افراد جلد پاکستان لانے کی اپیل کی ہے۔ حقوق کارکنوں نے رابطہ کاری میں مشکلات کا ذکر کیا ہے، جسے پاکستان کی جانب سے پنٹ لینڈ کو الگ ریاستی حیثیت سے تسلیم نہ کرنے کے سفارتی تناظر سے جوڑا گیا۔ دفتر خارجہ کی تصدیق ہلاکتوں اور زخمی پاکستانیوں کی بنیادی سرکاری توثیق فراہم کرتی ہے، جبکہ وطن واپسی کے عملی انتظامات جاری ہیں۔