اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے بعض سینئر رہنماؤں کے درمیان 4 اکتوبر کے مجوزہ اسلام آباد مارچ کے حوالے سے غیر علانیہ رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے یہ بات یکم اکتوبر کو جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی، تاہم ان رابطوں میں شریک افراد یا کسی طے شدہ نکات کی تفصیل نہیں بتائی۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق حکومت نے مجوزہ احتجاج کے شرکا کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کے انتظامات کر لیے ہیں، اگر پی ٹی آئی قیادت مارچ واپس نہیں لیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی قیادت میں وفاقی دارالحکومت کی طرف مارچ آئینی اور قانونی سوالات پیدا کرتا ہے۔ یہ حکومتی مؤقف ہے؛ پی ٹی آئی نے اپنے احتجاج کو بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی اور آئینی بالادستی سے متعلق مطالبات کے ساتھ جوڑا ہے۔

پی ٹی آئی نے اس سے قبل اپنے طے شدہ لانگ مارچ کی تاریخ 27 ستمبر سے تبدیل کرکے 4 اکتوبر کی تھی۔ حکومتی اور اپوزیشن بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجوزہ احتجاج سے قبل سیاسی رابطے اور سکیورٹی تیاریوں دونوں پر توجہ بڑھ گئی ہے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر مذاکرات سے پیش رفت نہ ہوئی تو قانون نافذ کرنے والے ادارے دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے موجودہ قانونی فریم ورک کے مطابق اقدامات کریں گے۔

خیبرپختونخوا کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ گورنر راج کا آپشن زیر غور ہے اور اس کے لیے آئین میں طریقہ کار موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسا کوئی فیصلہ آئینی عمل اور پارلیمانی منظوری کے مراحل سے گزرے گا۔ ان کے بیان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ گورنر راج نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے؛ دستیاب اطلاعات کے مطابق معاملہ محض زیر غور آپشن کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نے یہ بھی کہا کہ صوبوں سے متعلق فیصلوں میں پارلیمان کا مرکزی کردار ہے اور اگر معاملہ ایوان کے سامنے آیا تو وزیراعظم شہباز شریف حکومت کا مؤقف پیش کریں گے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کے مشاورتی کردار کا بھی ذکر کیا۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان تعلقات حالیہ عرصے میں احتجاج، عدالتی و سیاسی معاملات اور وفاقی و صوبائی اختیارات کے سوالات پر کشیدہ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں غیر علانیہ رابطوں سے متعلق رانا ثنا اللہ کا بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوامی سطح پر سخت بیانات کے باوجود پس پردہ بات چیت کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ تاہم کسی رسمی مذاکراتی عمل یا معاہدے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

4 اکتوبر کے مجوزہ مارچ سے قبل صورت حال تیزی سے بدل سکتی ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ بات یہی ہے کہ رانا ثنا اللہ نے رابطوں کا دعویٰ کیا ہے، حکومت نے اسلام آباد کے لیے انتظامات کی بات کی ہے اور گورنر راج کو حتمی فیصلے کے بجائے زیر غور آئینی آپشن قرار دیا گیا ہے۔