اسلام آباد: پاکستان نے چاول کی برآمدات کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کرتے ہوئے نئی عالمی منڈیوں تک رسائی، برآمدی معیار بہتر بنانے اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی حکام اور چاول برآمد کنندگان کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی مشاورت میں شعبے کی برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستان باسمتی اور غیر باسمتی چاول کے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہے اور اس شعبے سے ملک کو اہم زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ برآمد کنندگان کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں پاکستانی چاول کی مانگ موجود ہے، تاہم معیار، سرٹیفکیشن، لاجسٹکس، برانڈنگ اور نئی منڈیوں میں مارکیٹنگ بہتر بنا کر برآمدی آمدن میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
پانچ ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کے لیے پیداوار اور برآمدی حجم کے ساتھ فی یونٹ قدر بڑھانا بھی ضروری ہوگا۔ ویلیو ایڈڈ مصنوعات، بہتر پیکیجنگ اور پاکستانی باسمتی کی شناخت مضبوط بنانے کو اس حکمت عملی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ برآمد کنندگان نے حکومت سے تجارتی رکاوٹوں کے حل اور بیرون ملک مارکیٹ رسائی کے لیے سفارتی و تجارتی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
زرعی برآمدات میں اضافہ پاکستان کے بیرونی کھاتے کے لیے اہم ہے کیونکہ اس سے زرمبادلہ آمدن بڑھ سکتی ہے۔ تاہم چاول کی فصل موسمی حالات، پانی کی دستیابی، پیداواری لاگت اور بین الاقوامی قیمتوں سے متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے پانچ ارب ڈالر کا عدد ایک پالیسی ہدف ہے، حتمی نتیجہ نہیں؛ اس کا حصول عالمی طلب اور ملکی پیداوار سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہوگا۔
حکومت نے متعلقہ اداروں کو برآمد کنندگان کے ساتھ رابطہ جاری رکھنے اور نئی منڈیوں میں پاکستانی چاول کی رسائی بڑھانے کے لیے اقدامات آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ آئندہ برآمدی اعدادوشمار سے واضح ہوگا کہ موجودہ حکمت عملی کس رفتار سے ہدف کے قریب پہنچتی ہے۔
