راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پاکستان اور روس کے درمیان تجارت بڑھانے کے لیے توانائی، گیس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سرجیکل آلات، کھیلوں کے سامان، سیاحت، ادویات اور ٹرانسپورٹ کو اہم ممکنہ شعبوں کے طور پر شناخت کیا ہے۔ یہ نکات روسی فیڈریشن میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی کے راولپنڈی چیمبر کے دورے کے دوران زیر بحث آئے، جہاں انہوں نے چیمبر کے صدر نوشیروان خلیل خان سے ملاقات کی۔
ملاقات میں روسی منڈی میں پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کو وسیع کرنے پر توجہ دی گئی۔ شرکا نے اس بات پر گفتگو کی کہ پاکستان کی مختلف برآمدی صنعتیں روس میں کس طرح بہتر رسائی حاصل کر سکتی ہیں اور دونوں ملکوں کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط کیسے بڑھائے جا سکتے ہیں۔
کاروباری برادری نے عملی رکاوٹوں کی بھی نشاندہی کی۔ ان میں ویزا کے طریقہ کار، لیٹر آف کریڈٹ، قابل اعتماد بینکنگ چینلز، تجارتی معلومات تک رسائی اور دونوں منڈیوں کے درمیان رابطہ شامل ہیں۔ یہ مسائل اس لیے اہم ہیں کہ محض تجارتی دلچسپی موجود ہونا کافی نہیں ہوتا؛ ادائیگی، سفری سہولت، مالیاتی لین دین اور مارکیٹ معلومات کے قابل عمل نظام کے بغیر کاروباری معاہدوں کو عملی شکل دینا مشکل رہتا ہے۔
ملاقات میں دونوں ملکوں کے چیمبرز آف کامرس کے درمیان ادارہ جاتی روابط مضبوط کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ اس مقصد کے لیے تجارتی وفود کے تبادلے، کاروبار سے کاروبار میچ میکنگ، نیٹ ورکنگ اور مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی جیسے اقدامات زیر بحث آئے۔ اس نوعیت کے روابط پاکستانی برآمد کنندگان کو روسی خریداروں اور شراکت داروں تک براہ راست رسائی دینے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اجلاس میں راولپنڈی چیمبر کے سینئر نائب صدر وسیم اسلم، سابق صدور راجہ عامر اقبال اور زاہد لطیف خان سمیت ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ ملاقات میں کسی نئے تجارتی معاہدے یا مالی ہدف کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے بنیادی طور پر کاروباری مواقع اور موجود رکاوٹوں کی نشاندہی کے لیے مشاورتی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ اگلا عملی مرحلہ ان مسائل پر ادارہ جاتی پیش رفت اور کاروباری وفود و مشترکہ منصوبوں کے قابل عمل نتائج ہوں گے۔

