اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب نے زراعت، معدنیات و کان کنی اور دیگر ممکنہ شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو عملی تجارتی نتائج میں بدلنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر راجح طامی البغامی کے درمیان ملاقات میں ہوئی، جس کی تفصیلات وزارت خزانہ نے جمعرات کو جاری کیں۔

وزیر خزانہ نے پاکستان کے لیے سعودی عرب کی مسلسل معاونت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی گنجائش موجود ہے۔ سعودی سفیر نے بھی تاریخی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کاروبار سے کاروبار روابط بڑھانے کو عوامی اور اقتصادی تعلقات گہرے کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔

ملاقات میں زراعت، معدنیات اور کان کنی سمیت ایسے شعبوں پر توجہ دی گئی جہاں سرمایہ کاری کے امکانات موجود ہیں۔ دونوں جانب اس بات پر زور دیا گیا کہ مشترکہ ترجیحات کو قابل پیمائش تجارتی اور سرمایہ کاری نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ جاری کردہ تفصیلات میں کسی نئے سرمایہ کاری معاہدے، منصوبے کی مالیت یا فنڈز کی فوری فراہمی کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے گفتگو کو سرمایہ کاری کے امکانات پر مشاورت کے طور پر دیکھنا درست ہوگا، نہ کہ کسی حتمی سرمایہ کاری معاہدے کے طور پر۔

محمد اورنگزیب نے ملاقات میں پاکستان کی میکرو اکنامک صورتحال پر بھی بریفنگ دی۔ انہوں نے زرمبادلہ ذخائر اور مہنگائی میں بہتری، بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ اداروں کی حالیہ اپ گریڈز اور پاکستان کی بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک رسائی کا ذکر کیا۔ وزیر خزانہ نے حالیہ تین ارب ڈالر یورو بانڈ اجرا اور چینی کیپٹل مارکیٹ تک رسائی کو بھی سرمایہ کار اعتماد کے تناظر میں پیش کیا۔

دونوں فریقوں نے موجودہ علاقائی صورتحال اور جاری تنازع پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا اور امن و استحکام کو علاقائی اقتصادی امکانات کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا۔ گفتگو میں پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع اور علاقائی تجارت و ٹرانزٹ مرکز بننے کی صلاحیت کا بھی ذکر کیا گیا۔

پاکستان گزشتہ عرصے میں خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری کو زراعت، کان کنی، توانائی اور دیگر پیداواری شعبوں کی طرف لانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ تازہ ملاقات اسی وسیع اقتصادی رابطہ کاری کا حصہ ہے۔ تاہم کسی بھی ممکنہ منصوبے کی عملی پیش رفت کا اندازہ اس وقت ہوگا جب متعلقہ فریق سرمایہ کاری کے حجم، کمپنیوں، منصوبوں اور نفاذ کے شیڈول سے متعلق باضابطہ تفصیلات جاری کریں گے۔