پاکستان اور سعودی عرب نے سائبر سکیورٹی کے شعبے میں باقاعدہ تعاون بڑھانے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنا، سائبر خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانا اور تجربات و تکنیکی مہارت کا تبادلہ کرنا ہے۔
ڈیجیٹل معیشت، آن لائن سرکاری خدمات، مالیاتی نظام اور اہم انفراسٹرکچر کے تیزی سے آن لائن ہونے کے ساتھ سائبر حملوں کا خطرہ بھی بڑھا ہے۔ رینسم ویئر، ڈیٹا چوری، فشنگ، سرکاری نظاموں میں دراندازی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے ریاستوں کے لیے قومی سلامتی اور معاشی استحکام کا مسئلہ بن چکے ہیں۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت تربیت، معلومات کے تبادلے، بہترین طریقہ کار اور ممکنہ مشترکہ پروگراموں کے لیے فریم ورک فراہم کیا جائے گا۔ تاہم ایم او یو بذات خود کسی مخصوص سائبر واقعے کی مشترکہ تحقیقات یا حساس ڈیٹا کے خودکار تبادلے کی ضمانت نہیں؛ عملی تعاون متعلقہ قوانین، ادارہ جاتی قواعد اور بعد کے انتظامات کے مطابق ہوگا۔
پاکستان اپنی قومی سائبر سکیورٹی صلاحیت، ڈیٹا تحفظ اور سرکاری ڈیجیٹل نظاموں کی حفاظت بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب بھی وژن 2030 کے تحت بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل تبدیلی اور ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس تناظر میں دونوں ممالک کے لیے سائبر دفاع اور ماہر افرادی قوت میں تعاون مشترکہ مفاد رکھتا ہے۔
معاہدے کی اصل افادیت اس بات سے طے ہوگی کہ تربیت، خطرات کی بروقت اطلاع، تکنیکی معاونت اور ادارہ جاتی رابطے کو کتنی تیزی سے عملی شکل دی جاتی ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان اور سعودی عرب کے روایتی دفاعی و اقتصادی تعلقات کو ڈیجیٹل سلامتی کے نئے شعبے تک وسعت دینے کی علامت ہے۔




