ریاض/اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب نے سائبر سکیورٹی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے پر وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ اور سعودی عرب کی نیشنل سائبر سکیورٹی اتھارٹی کے گورنر انجینئر ماجد بن محمد المزید نے ریاض میں دستخط کیے۔ پاکستانی وزارتِ آئی ٹی اور سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یادداشت کا مقصد دونوں ملکوں کے سائبر اسپیس اور اہم قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو وسعت دینا ہے۔
جاری کردہ تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق ابھرتے اور بدلتے ہوئے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے علم، پیشہ ورانہ مہارت اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کریں گے۔ سرکاری بیانات نے اس انتظام کو دوطرفہ سائبر تعاون کے ساتھ علاقائی اور عالمی سطح پر شراکت داری مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا۔ ان بیانات میں کسی مخصوص حملے، متاثرہ نظام یا فوری مشترکہ کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا، بلکہ مستقبل کے تعاون کے عمومی دائرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط خود کسی ایک ملک کو دوسرے کے سرکاری یا نجی کمپیوٹر نظام تک خودکار رسائی نہیں دیتے۔ عوامی طور پر دستیاب معلومات میں حساس ڈیٹا کے تبادلے، سائبر واقعے کی مشترکہ تفتیش، ہنگامی ردعمل، تربیتی پروگراموں کی تعداد، مالی لاگت یا نفاذی ٹائم لائن کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ ایسے عملی انتظامات، اگر طے کیے جاتے ہیں، تو متعلقہ ملکی قوانین، ادارہ جاتی اجازت، ڈیٹا تحفظ اور بعد کی نفاذی دستاویزات کے تابع ہوں گے۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو تعاون کا فریم ورک سمجھنا درست ہے، مکمل فعال مشترکہ سائبر آپریشن نہیں۔
پاکستانی وزارتِ آئی ٹی کے بیان کے مطابق یادداشت سے سائبر خطرات کے مقابلے کی صلاحیت، اداروں کے درمیان رابطہ اور تجربے کے تبادلے کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔ سعودی نیشنل سائبر سکیورٹی اتھارٹی نے بھی اسے بین الاقوامی شراکت داریوں کے ذریعے سائبر تحفظ بہتر بنانے کی اپنی کوششوں سے جوڑا۔ عملی کامیابی کا اندازہ بعد میں جاری ہونے والے مشترکہ ورک پلان، تربیت، مشقوں، تکنیکی تعاون، رابطہ مراکز یا قابلِ پیمائش نتائج سے کیا جا سکے گا۔
یہ دستخط شزا فاطمہ خواجہ کے ریاض دورے کے دوران ہوئے۔ اسی دورے میں انہوں نے سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی کے صدر عبداللہ بن شرف الغامدی سے مصنوعی ذہانت، ڈیٹا گورننس اور ابھرتی ٹیکنالوجیز پر الگ ملاقات بھی کی۔ اس ملاقات میں مزید بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا، مگر وہ ایک الگ مشاورتی عمل تھا اور اسے سائبر سکیورٹی کی دستخط شدہ یادداشت کا خودکار حصہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے سرکاری و کاروباری ادارے تیزی سے ڈیجیٹل خدمات، کلاؤڈ نظام، مالی ٹیکنالوجی اور آن لائن عوامی سہولیات استعمال کر رہے ہیں، جس کے ساتھ سائبر خطرات سے نمٹنے کی اہمیت بھی بڑھتی ہے۔ نئی یادداشت دونوں ممالک کو تجربہ اور صلاحیت سازی منظم کرنے کا سفارتی و ادارہ جاتی ذریعہ فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے حقیقی اثرات اس وقت واضح ہوں گے جب تعاون کے مخصوص شعبے، ذمہ دار ادارے، حفاظتی ضابطے اور عمل درآمد کی پیش رفت باقاعدہ طور پر سامنے آئے گی۔




