وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کرکے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی، اقتصادی اور سرمایہ کاری تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال اور حالیہ سفارتی و سکیورٹی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
یہ ملاقات پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے فیصلوں کے چند روز بعد ہوئی ہے۔ اس سہ فریقی انتظام کے تحت ریاض میں مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے اور ابتدائی تین سال کے لیے پاکستانی سیکریٹری جنرل مقرر کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے رہنماؤں نے دفاعی تعاون کو خطے میں سلامتی اور استحکام سے جوڑتے ہوئے رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت بیان کی۔
اقتصادی شعبے میں دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں موجود امکانات کو آگے بڑھانے پر بات کی۔ سعودی عرب پاکستان کا ایک اہم معاشی شراکت دار ہے اور پاکستانی حکومت حالیہ برسوں میں سعودی سرمایہ کاری کو کان کنی، توانائی اور دیگر بڑے منصوبوں کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ تاہم کسی مخصوص نئی سرمایہ کاری کی رقم یا حتمی معاہدے کا اعلان اس ملاقات میں نہیں کیا گیا۔
رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ اور اس کے علاقائی اثرات پر بھی گفتگو کی۔ پاکستان اور سعودی عرب دونوں کے لیے خلیجی سلامتی، تیل کی رسد اور بحری تجارت اہم مسائل ہیں۔ پاکستان نے تنازعات کے سفارتی حل اور علاقائی کشیدگی میں کمی کی حمایت کی ہے، جبکہ سعودی عرب بھی جنگ کے معاشی اور سکیورٹی اثرات سے براہ راست متاثر ہونے والے خطے کا مرکزی ملک ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات دفاع، افرادی قوت، ترسیلات زر، توانائی اور مذہبی روابط سمیت متعدد شعبوں پر محیط ہیں۔ تازہ ملاقات میں عمومی تعاون بڑھانے پر سیاسی اتفاق کا اعادہ ہوا ہے۔ عملی نتائج کا انحصار دفاعی ادارہ جاتی فیصلوں، سرمایہ کاری منصوبوں اور متعلقہ وزارتوں کے درمیان آئندہ مذاکرات پر ہوگا۔ بشکیک میں یہ رابطہ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان جاری اعلیٰ سطحی مشاورت کا حصہ ہے۔




