تہران: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام نے ایران کی قیادت کے ساتھ تہران میں علاقائی سلامتی اور جاری کشیدگی پر مشاورت کی ہے۔ پاکستانی وفد کی نمائندگی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی، جبکہ سعودی عرب اور ترکی سے بھی سینئر دفاعی و سلامتی حکام مذاکرات میں شریک ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق بات چیت کا مقصد خطے میں تناؤ کم کرنے اور علاقائی ممالک کے درمیان براہ راست رابطہ مضبوط بنانا تھا۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق وفود نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر سینئر ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ مذاکرات ایسے وقت ہوئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی، بحری راستوں کی سلامتی اور توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات نے خطے کے ممالک کو سفارتی رابطے تیز کرنے پر مجبور کیا ہے۔ چاروں فریقوں نے علاقائی مسائل پر مشاورت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے چار ملکی رابطوں کو مثبت ماحول پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق علاقائی سلامتی کا نظام خطے کے ممالک کے درمیان تعاون پر مبنی ہونا چاہیے۔ دوسری جانب سعودی حکام پہلے ہی اس رابطے کو کشیدگی کم کرنے، سفارتی حل کی حمایت اور قطر و پاکستان کی ثالثی کوششوں سے منسلک کر چکے ہیں۔
پاکستان نے حالیہ علاقائی بحرانوں میں سفارتی رابطوں اور کشیدگی میں کمی کو ترجیح دینے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ تہران میں ہونے والی یہ ملاقاتیں کسی نئے باضابطہ دفاعی اتحاد یا تحریری معاہدے کے اعلان کے بجائے سیاسی اور سلامتی مشاورت کا حصہ ہیں۔ دستیاب اطلاعات میں کسی مشترکہ فوجی کارروائی، پابند معاہدے یا فوری پالیسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ملاقاتوں کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور ایران کے سلامتی مفادات کئی معاملات میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، جن میں خلیج اور آبنائے ہرمز کی سلامتی، توانائی کی ترسیل، یمن کی صورت حال اور وسیع تر مشرق وسطیٰ کی کشیدگی شامل ہیں۔ ان موضوعات پر اختلافات کے باوجود براہ راست رابطہ بحران کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
فریقین کی جانب سے مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے، تاہم اگلے دور کی تاریخ یا کسی مستقل چار ملکی طریقہ کار کی تفصیل فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔ اس مرحلے پر پیش رفت کا قابل تصدیق نتیجہ یہی ہے کہ چاروں ممالک نے اعلیٰ سطحی رابطہ برقرار رکھنے اور علاقائی سلامتی کے معاملات کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
