نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اصلاحات کے عمل میں ویٹو اختیار کی توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ ویٹو نظام کونسل کی مؤثریت اور اقوام متحدہ کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستانی مندوب گل قیصر سروانی نے جنرل اسمبلی میں بحث کے دوران کہا کہ ویٹو کو ختم کیا جانا چاہیے یا کم از کم اس کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد ہونی چاہئیں، لیکن اس اختیار کو مزید ممالک تک پھیلانا مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔
سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکا، روس، چین، فرانس اور برطانیہ ویٹو کا اختیار رکھتے ہیں۔ پاکستانی نمائندے نے کہا کہ اس اختیار کے غلط استعمال سے سلامتی کونسل فیصلے کرنے میں مفلوج ہو سکتی ہے اور مستقل ارکان کو اقوام متحدہ کے نظام میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل رہتا ہے۔ پاکستان نے اس تناظر میں کونسل کو زیادہ مؤثر، نمائندہ اور جواب دہ بنانے پر زور دیا۔
پاکستان کی پوزیشن اس بحث سے بھی جڑی ہے جس میں بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان سلامتی کونسل کی مستقل نشستوں کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ نئے مستقل ارکان اور مزید ویٹو اختیارات موجودہ عدم مساوات کو بڑھا سکتے ہیں اور طاقت کے نئے مستقل مراکز پیدا کر سکتے ہیں۔ پاکستان، اٹلی کی قیادت میں قائم یونائٹنگ فار کنسینسس گروپ کے ساتھ، انفرادی ممالک کے لیے نئی مستقل نشستوں کے بجائے منتخب ارکان کی نمائندگی بڑھانے کی حمایت کرتا ہے۔
جنرل اسمبلی کا اجلاس قرارداد 76/262 کے تحت منعقد ہوا، جس کے مطابق سلامتی کونسل میں ویٹو استعمال ہونے کے بعد دس کاروباری دنوں کے اندر جنرل اسمبلی میں اس معاملے پر بحث کی جاتی ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد ویٹو کے استعمال پر سیاسی جواب دہی اور شفافیت بڑھانا ہے، اگرچہ جنرل اسمبلی کی بحث سلامتی کونسل کے ویٹو فیصلے کو خود بخود منسوخ نہیں کرتی۔
پاکستان نے تجویز دی کہ ویٹو کے استعمال پر پابندیاں بڑھانے کے ساتھ سلامتی کونسل کے منتخب ارکان کی تعداد اور کردار مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ اس سے فیصلوں کی منظوری کے لیے درکار توازن زیادہ نمائندہ بنایا جا سکتا ہے اور مستقل ارکان کے منفی اختیار پر ادارہ جاتی چیک پیدا ہو سکتا ہے۔
جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمٰن نے بحث کے آغاز پر کہا کہ ویٹو کے بعد جنرل اسمبلی میں بحث کا طریقہ شفافیت، جواب دہی اور اجتماعی ذمہ داری کا ایک قائم شدہ اظہار بن چکا ہے۔ سلامتی کونسل کی ساخت میں کوئی بنیادی تبدیلی اقوام متحدہ کے چارٹر اور رکن ممالک کے درمیان وسیع سیاسی اتفاق سے مشروط ہوگی؛ اس لیے موجودہ بحث پالیسی موقف اور اصلاحاتی مذاکرات کا حصہ ہے، کوئی فوری ساختی تبدیلی نہیں۔

