خرطوم: سوڈان میں ڈرون حملوں کے ایک سلسلے میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ملک کے مشرقی حصے میں بجلی کے اہم ڈھانچے کو نقصان پہنچنے سے بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش پیدا ہو گئی ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق حملوں میں چھ پاور اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کی بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔

رپورٹ میں ان حملوں کو مربوط کارروائی قرار دیا گیا اور انہیں ریپڈ سپورٹ فورسز، یعنی آر ایس ایف، سے منسوب کیا گیا۔ سوڈان میں جاری مسلح تنازع کے دوران ڈرونز کا استعمال اور شہری و بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ ہلاکتوں اور بجلی کی بندش کی اطلاعات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ملک کے مختلف حصوں میں جنگ کے باعث معمولاتِ زندگی پہلے ہی شدید متاثر ہیں۔

بجلی گھروں پر حملے کا اثر صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں رہتا بلکہ پانی کی فراہمی، اسپتالوں، مواصلاتی نظام اور کاروباری سرگرمیوں جیسے بنیادی شعبے بھی بجلی کے تسلسل پر انحصار کرتے ہیں۔ موجودہ واقعے میں مشرقی سوڈان کے وسیع علاقے میں بندش کی اطلاع نے بنیادی شہری خدمات کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔

سوڈان کی جنگ میں متحارب فریقوں پر مختلف اوقات میں شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ اس واقعے میں ذمہ داری سے متعلق دعووں کو بھی جاری تنازع کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں آزادانہ طور پر ہر تفصیل کی فوری تصدیق مشکل ہو سکتی ہے۔ رپورٹ شدہ ہلاکتیں اور پاور اسٹیشنوں کو پہنچنے والا نقصان، تاہم، تازہ حملوں کے انسانی اور معاشی اثرات کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔

بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہری آبادی اور شہری استعمال کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کی اہمیت مسلسل اجاگر کی جاتی ہے۔ سوڈان میں جاری لڑائی کے دوران بجلی، صحت، خوراک اور نقل مکانی سے متعلق بحران ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں، اور تازہ ڈرون حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں خدمات کی بحالی اور شہریوں کی حفاظت فوری چیلنج بن گئی ہے۔