نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی اصلاحات پر بحث کے دوران مزید مستقل ارکان شامل کرنے اور ویٹو اختیار کو نئے ممالک تک توسیع دینے کی مخالفت کی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ کونسل کو زیادہ نمائندہ بنانے کا مقصد ایسے نئے مراکزِ استحقاق پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے جو طویل مدت کے لیے رکن ممالک کی اکثریت کی نمائندگی محدود کر دیں۔
پاکستانی نمائندے نے بین الحکومتی مذاکرات کے فریم ورک کو سلامتی کونسل کی اصلاحات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کا مناسب راستہ قرار دیا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ منتخب، غیر مستقل نشستوں میں اضافہ اقوام متحدہ کے زیادہ رکن ممالک کو فیصلہ سازی میں شرکت کا موقع دے سکتا ہے، جبکہ نئی مستقل نشستیں چند اضافی ممالک کو مستقل حیثیت دے کر نمائندگی کے مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کرتیں۔
بحث میں ویٹو کا معاملہ بھی نمایاں رہا۔ پاکستان نے موجودہ مستقل ارکان کے ویٹو اختیار سے متعلق دیرینہ تحفظات دہراتے ہوئے اس اختیار کو مزید ممالک تک پھیلانے کی مخالفت کی۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق اصلاحات کا ہدف سلامتی کونسل کی جوابدہی، شفافیت اور جغرافیائی نمائندگی بہتر بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ موجودہ عدم مساوات کو مزید مستقل شکل دینا۔
سلامتی کونسل اس وقت 15 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں پانچ مستقل ارکان چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا ویٹو اختیار رکھتے ہیں، جبکہ دس غیر مستقل ارکان محدود مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ اصلاحات پر کئی برسوں سے اقوام متحدہ میں اختلاف موجود ہے۔ بعض ممالک مستقل رکنیت میں توسیع چاہتے ہیں جبکہ پاکستان سمیت یونائٹنگ فار کنسنسس گروپ کے ممالک زیادہ منتخب نشستوں کے ذریعے نمائندگی بڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
پاکستانی سفیر نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی اصلاحی فارمولے کو اقوام متحدہ کی وسیع رکنیت کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔ اس بحث میں افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکا اور دیگر کم نمائندگی والے خطوں کی آواز بڑھانے کا سوال مرکزی اہمیت رکھتا ہے، لیکن مستقل اور غیر مستقل نشستوں کے تناسب اور ویٹو کے مستقبل پر رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے ابھی موجود نہیں۔
یہ بیان کسی فوری ساختی تبدیلی کا اعلان نہیں بلکہ پاکستان کی مذاکراتی پوزیشن کی تجدید ہے۔ سلامتی کونسل کی رکنیت یا ویٹو نظام میں تبدیلی کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر میں ترمیم اور وسیع بین الاقوامی حمایت درکار ہوگی، اس لیے موجودہ جنرل اسمبلی بحث کو طویل اصلاحاتی عمل کے ایک مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
