پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی چیئرمین شپ سنبھالتے ہوئے آئندہ ایک سال کے لیے ’وژن سے عمل: رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی‘ کو مرکزی موضوع قرار دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک میں سربراہی اجلاس کے اختتام پر کہا کہ پاکستان تنظیم کے وسیع سیاسی اہداف کو قابل عمل علاقائی منصوبوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا۔

پاکستان کی ترجیحات میں ٹرانسپورٹ اور تجارتی رابطہ کاری، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی تعاون، غربت میں کمی، صحت، قدرتی آفات سے نمٹنے، ثقافت اور نوجوانوں کے تبادلوں جیسے شعبے شامل ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ایس سی او کے رکن ممالک کی بڑی آبادی، قدرتی وسائل اور جغرافیائی محل وقوع مشترکہ منصوبوں کے لیے وسیع معاشی امکانات فراہم کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے تنظیم کے رکن ممالک کو 2027 میں پاکستان میں ہونے والے اگلے سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ چیئرمین ملک کی حیثیت سے پاکستان وزارتی اور تکنیکی اجلاسوں کے سلسلے کی میزبانی بھی کرے گا اور اگلے سربراہی اجلاس کے لیے مشترکہ ایجنڈا تیار کرنے میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔

پاکستان نے علاقائی رابطہ کاری کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری، وسطی ایشیا سے جنوبی ایشیا کے ٹرانسپورٹ راستوں اور توانائی منصوبوں کو اہم قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے لیے مشترکہ اور خودمختار انفراسٹرکچر کے تصور کو بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ان تجاویز کو عملی شکل دینے کے لیے رکن ممالک کے درمیان مالی، تکنیکی اور قانونی اتفاق درکار ہوگا۔

ایس سی او میں چین، روس، پاکستان، بھارت اور وسطی ایشیائی ریاستوں سمیت مختلف سیاسی اور معاشی مفادات رکھنے والے ممالک شامل ہیں، اس لیے مشترکہ اعلامیوں کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ پاکستان کی چیئرمین شپ کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہوگا کہ آئندہ سربراہی اجلاس تک کتنے منصوبوں میں قابل پیمائش پیش رفت ہوتی ہے۔ 2027 کی میزبانی اسلام آباد کو علاقائی سفارت کاری اور اقتصادی رابطہ کاری کے اپنے ایجنڈے کو نمایاں کرنے کا اہم موقع فراہم کرے گی۔