اسلام آباد: پاکستان نے چین کی مقامی سرمایہ منڈی میں دوسرے پانڈا بانڈ کے ذریعے 500 ملین ڈالر کے مساوی فنڈز حاصل کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے، جبکہ اس بار ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی ضمانتوں کے بغیر اجرا کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

وزارت خزانہ کے حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق مجوزہ بانڈ مالی سال 2026-27 کی دوسری ششماہی، یعنی جنوری سے جون 2027 کے دوران جاری کیا جا سکتا ہے۔ حکومت چینی کریڈٹ انہانسمنٹ اداروں کی شمولیت پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کے لیے لین دین کی کریڈٹ ساخت مضبوط بنائی جا سکے۔

پاکستان نے مئی 2026 میں اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کیا تھا۔ اس ابتدائی اجرا میں ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی ضمانتوں نے چین کی آن شور بانڈ مارکیٹ تک پاکستان کی رسائی میں مدد دی۔ دوسرے مرحلے میں حکومت کا ہدف یہ تجربہ استعمال کرتے ہوئے نسبتاً مختلف ضمانتی ڈھانچے کے ساتھ فنڈنگ حاصل کرنا ہے۔

نئی تیاری ایسے وقت ہو رہی ہے جب پاکستان نے چینی کمرشل قرضوں کی مد میں تقریباً 1.3 ارب ڈالر واپس کیے تھے اور اس رقم کی مکمل ری فنانسنگ ابھی تک نہیں ہو سکی۔ رپورٹ کے مطابق کچھ رقم کی ری فنانسنگ حاصل ہوئی ہے، تاہم پوری ادائیگی دوبارہ دستیاب نہ ہونے کے باعث حکومت متبادل چینی مالی ذرائع پر بھی کام کر رہی ہے۔

پانڈا بانڈ بنیادی طور پر غیر چینی اداروں یا حکومتوں کی جانب سے چین کی مقامی کرنسی میں جاری کیا جانے والا قرضہ جاتی آلہ ہے۔ پاکستان کے لیے اس مارکیٹ میں مسلسل رسائی سے بیرونی فنانسنگ کے ذرائع متنوع بنانے، روایتی ڈالر قرضوں پر انحصار کم کرنے اور چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ مالی روابط بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم حتمی حجم، قیمت، کریڈٹ انہانسمنٹ اور اجرا کی تاریخ مارکیٹ حالات اور ریگولیٹری منظوریوں سے مشروط ہوں گے۔ فی الحال معاملہ تیاری اور آپشنز کے جائزے کے مرحلے میں ہے، اسے مکمل شدہ فنڈنگ یا حتمی اجرا نہیں سمجھا جا سکتا۔