اسلام آباد: پاکستان نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے کراچی تا پشاور مین لائن ون ریلوے منصوبے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے دیگر منصوبوں کے لیے مالی تعاون بڑھانے کی درخواست کی ہے۔ یہ معاملہ اے ڈی بی کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا ینگ منگ یانگ کے دورۂ اسلام آباد کے دوران وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے الگ الگ ملاقاتوں میں زیر بحث آیا۔
ایم ایل ون کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,670 کلومیٹر طویل مرکزی ریلوے راہداری کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ ہے، جس کی مجموعی تخمینی مالیت 10 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اے ڈی بی سے کراچی تا روہڑی حصے کے لیے 2 ارب ڈالر کی فنانسنگ پہلے ہی حاصل کی جا چکی ہے۔ اس کے باوجود مکمل منصوبے اور دوسرے ترقیاتی پروگراموں کے لیے اضافی وسائل، ضمانتوں اور نجی شعبے کی شراکت کے امکانات پر بات جاری ہے۔
یہ ملاقاتیں اے ڈی بی کی 2026 سے 2030 تک پاکستان کے لیے 10 ارب ڈالر کی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی کے تناظر میں ہوئیں، جسے بینک کے بورڈ نے مارچ میں منظور کیا تھا۔ مذکورہ حکمت عملی پورے پانچ سالہ ترقیاتی تعاون کا فریم ورک ہے؛ اسے صرف ایم ایل ون کے لیے 10 ارب ڈالر کی منظور شدہ فنانسنگ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ تازہ اجلاس میں بھی کسی نئی مخصوص اضافی رقم کی حتمی منظوری یا اجرا کا اعلان نہیں کیا گیا۔
احد چیمہ نے ایم ایل ون کو قومی ترجیحی منصوبہ قرار دیتے ہوئے اے ڈی بی سے پاکستان میں نجی شعبے کے آپریشنز بڑھانے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے مؤثر فریم ورک، منصوبوں کی بہتر تیاری اور تجارتی طور پر قابل عمل منصوبوں کی فہرست بنانے پر کام کر رہی ہے۔ اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق مالی، ساختی اور حکمرانی اصلاحات بھی گفتگو کا حصہ رہیں۔
اے ڈی بی کے نائب صدر نے ایم ایل ون پر پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے اور منصوبے کو ابتدائی عملی مرحلے تک پہنچانے میں معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے پاکستان ریلوے کی ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے ایک ورکنگ گروپ بنانے کی تجویز بھی دی، جس پر پاکستانی حکام نے عمل شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ ورکنگ گروپ کا حتمی مینڈیٹ، ارکان اور رپورٹ پیش کرنے کی مدت ابھی جاری نہیں کی گئی۔
ملاقات میں پالیسی پر مبنی ضمانتوں، پانڈا بانڈ کے لیے ضمانتی سہولت اور دوسرے جدید مالیاتی طریقوں کے سابق تجربات کا بھی حوالہ دیا گیا۔ ایسے آلات براہ راست قرض سے مختلف ہو سکتے ہیں اور ان میں حکومت، ترقیاتی بینک اور نجی سرمایہ کاروں کے درمیان خطرات کی تقسیم شامل ہوتی ہے۔ کسی بھی نئے انتظام کی شرائط اس وقت واضح ہوں گی جب باقاعدہ مالی معاہدہ منظور اور جاری کیا جائے گا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ساتھ بات چیت میں مالی نظم، بیرونی کھاتوں، نجی شعبے کی ترقی اور سرمایہ تک رسائی کا جائزہ لیا گیا۔ اے ڈی بی وفد نے پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں اور حالیہ کریڈٹ ریٹنگ پیش رفت کو سراہا، جبکہ دونوں جانب سے اصلاحات اور منصوبوں کے نفاذ میں رابطہ جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔ یہ بیانات فریقین کے پالیسی مؤقف ہیں اور کسی نئے قرض کی خودکار ضمانت نہیں۔
حکومت اور اے ڈی بی کے درمیان آئندہ مرحلے میں ایم ایل ون کی دستاویزات، تکنیکی تیاری، خریداری کے انتظامات، ریلوے اصلاحات اور ممکنہ شریک مالی اداروں سے متعلق فیصلے اہم ہوں گے۔ فی الحال مصدقہ پیش رفت مذاکرات، پاکستان کی اضافی تعاون کی درخواست، پہلے سے طے شدہ کراچی روہڑی فنانسنگ اور ورکنگ گروپ کی تجویز تک محدود ہے۔ نئی فنانسنگ کی مقدار، شرح، واپسی کی مدت یا اجرا کا شیڈول طے ہونے پر الگ باضابطہ اعلان درکار ہوگا۔




