اسلام آباد: پاکستان نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے بڑے انفراسٹرکچر اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے لیے مالی تعاون بڑھانے کی درخواست کی ہے، جس میں کراچی سے پشاور تک مین لائن ون ریلوے کی اپ گریڈیشن نمایاں ہے۔ اے ڈی بی کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا ینگ منگ یانگ کی قیادت میں وفد نے پاکستانی معاشی اور ترقیاتی حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق ایم ایل ون منصوبے کی مجموعی مالیت تقریباً 10 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ پاکستان کراچی-روہڑی سیکشن کے لیے اے ڈی بی سے پہلے ہی 2 ارب ڈالر کی فنانسنگ حاصل کر چکا ہے، جبکہ باقی حصوں اور متعلقہ اصلاحات کے لیے مزید مالی سہولتوں، ضمانتوں اور نجی شعبے کی شمولیت کے امکانات پر بات جاری ہے۔

وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ نے اے ڈی بی کے 2026 سے 2030 کے لیے پاکستان کے کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی کے تناظر میں حکومت کی مالیاتی، ساختی اور گورننس اصلاحات پر گفتگو کی۔ انہوں نے ایم ایل ون کو قومی فلیگ شپ منصوبہ قرار دیا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے تجارتی طور پر قابل عمل منصوبوں کی پائپ لائن مضبوط بنانے اور اے ڈی بی کے نجی شعبے کے آپریشنز بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اے ڈی بی کے نائب صدر نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں حالیہ بہتری اور میکرو اکنامک استحکام کی کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے ایم ایل ون پر پیش رفت کے لیے تعاون جاری رکھنے اور ریلوے کی ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے ایک ورکنگ گروپ بنانے کی تجویز بھی دی۔ یہ تجویز ریلوے کے مالی، انتظامی اور آپریشنل ڈھانچے میں اصلاحات کو انفراسٹرکچر فنانسنگ کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی عکاسی کرتی ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات میں بھی مالیاتی انتظام، بیرونی کھاتے اور مجموعی معاشی استحکام پر بات ہوئی۔ پاکستانی حکومت عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ایسے مالی ذرائع تلاش کر رہی ہے جن سے صرف سرکاری قرض پر انحصار کم ہو اور ضمانتوں یا نجی سرمایہ کاری کے ذریعے بڑے منصوبوں کے لیے سرمایہ حاصل کیا جا سکے۔

مزید فنانسنگ کی درخواست یا مذاکرات کو حتمی قرض منظوری نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہر نئی سہولت اے ڈی بی کے جائزے، منصوبے کی تیاری، شرائط اور متعلقہ منظوریوں سے مشروط ہوگی۔ موجودہ مصدقہ پیش رفت یہ ہے کہ پاکستان نے مالی تعاون بڑھانے کی خواہش باضابطہ طور پر سامنے رکھی ہے اور اے ڈی بی نے ایم ایل ون اور ریلوے اصلاحات پر تعاون جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔