بینکاک: پاکستان نے سعودی عرب سے مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کے لیے طویل مدتی مالی سہولت حاصل کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سعودی فنڈ برائے ترقی کے سربراہ سلطان عبدالرحمان المرشد سے ملاقات میں تیل کی سابقہ سہولت کی بحالی اور آئندہ برسوں کے لیے مالی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ ملاقات عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہوئی۔

ایکسپریس ٹریبیون کی 14 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایک ارب بیس کروڑ ڈالر سالانہ کی مؤخر ادائیگی والی تیل سہولت کا معاملہ اٹھایا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت پندرہ سال کی مدت کے لیے تقریباً چھ ارب ستر کروڑ ڈالر کی رعایتی تیل فنانسنگ کی خواہاں ہے۔ اس خواہش کو منظور شدہ معاہدہ یا سعودی حکومت کی قطعی مالی یقین دہانی سمجھنا درست نہیں؛ دستیاب معلومات مذاکرات اور پاکستانی درخواست تک محدود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب 2019 سے پاکستان کو مختلف ادوار میں مؤخر ادائیگی پر تیل کی سہولت فراہم کرتا رہا ہے۔ آخری سہولت فروری 2025 میں طے پائی تھی اور اپریل میں ختم ہوگئی۔ پاکستان اب ایک سالہ انتظامات کے بجائے زیادہ طویل مالی مدت کا خواہاں ہے تاکہ فوری بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کیا جاسکے۔ سابقہ انتظام کی شرح سود کے بارے میں وزارت اقتصادی امور کے حکام نے چھ فیصد کا حوالہ دیا۔

اس کوشش کا پس منظر پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات اور توانائی کی درآمدی لاگت ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کا بل 16 ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچا، جبکہ خام تیل کی درآمد پر خرچ سات ارب 20 کروڑ ڈالر رہا۔ عالمی منڈی میں قیمتوں کی بے یقینی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پاکستان کے لیے اضافی خطرات پیدا کرسکتی ہیں، تاہم آئندہ قیمتوں اور مالی نتائج کا یقینی اندازہ لگانا ممکن نہیں۔

ٹریبیون نے یہ بھی بتایا کہ آئی ایم ایف کے متعلقہ تخمینوں میں مالی سال 2026-27 اور 2027-28 کے لیے اس سعودی سہولت کو متوقع رقوم میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس لیے مجوزہ معاہدے کے ممکنہ فوائد کو ابھی پاکستان کی دستیاب فنڈنگ کا حصہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ وزیر خزانہ نے اسی موقع پر انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے علاقائی نائب صدر سے بھی ملاقات کی جس میں نجی شعبے، چھوٹے کاروباروں، سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے تعاون زیر بحث آیا۔

حتمی مالی شرائط، رقم، مدت اور دستخطوں کی تاریخ کے بارے میں کوئی قطعی اعلان سامنے نہیں آیا۔ حکومت اور سعودی اداروں کی آئندہ سرکاری وضاحت ہی طے کرے گی کہ زیر غور سہولت کس شکل میں عملی معاہدہ بنتی ہے۔