اسلام آباد: پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ ستمبر 2026 کے لیے بجلی کی متوقع فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف پی اے) 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ رہنے کا امکان ہے، جبکہ مہنگے فرنس آئل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے زیادہ استعمال کی صورت میں یہ 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک جا سکتی تھی۔ ڈویژن کے مطابق ہدفی لوڈ مینجمنٹ اور ایندھن کی فراہمی سے متعلق اقدامات کے ذریعے اضافی لاگت کو محدود کیا گیا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق ستمبر میں تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے کی ہدفی لوڈ مینجمنٹ کی گئی تاکہ مہنگے متبادل ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کی ضرورت کم کی جا سکے۔ پاور ڈویژن نے یہ بھی کہا کہ درآمدی آر ایل این جی کو بجلی کے شعبے کے لیے گھریلو گیس کے نرخ پر فراہم کرنے سے صارفین پر ممکنہ بوجھ میں 83 پیسے فی یونٹ کمی ہوئی۔ ان اقدامات کے بعد ستمبر کا متوقع ایف پی اے اگست کے مقابلے میں 1.45 روپے فی یونٹ زیادہ بنتا ہے۔

پاور ڈویژن نے ستمبر کے ایڈجسٹمنٹ کا ممکنہ مجموعی مالی اثر تقریباً 32.7 ارب روپے بتایا ہے۔ تاہم یہ رقم اور فی یونٹ اضافہ ابھی حتمی بلنگ رقم نہیں ہے۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ متعلقہ ریگولیٹری طریقہ کار سے گزرتی ہے اور حتمی منظور شدہ شرح کے بعد ہی صارفین پر اصل قابل ادائیگی اثر واضح ہوگا۔ اس لیے 2.56 روپے فی یونٹ کو اس مرحلے پر پاور ڈویژن کا متوقع عدد سمجھنا چاہیے، نہ کہ مکمل اور حتمی ریگولیٹری فیصلہ۔

حکام کے مطابق عالمی خام تیل کی قیمتوں میں علاقائی تنازع کے باعث اضافہ ہوا اور قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے اوپر گئی، جبکہ پاکستان کے بنیادی بجلی ٹیرف کے تعین میں تقریباً 70 ڈالر فی بیرل کا مفروضہ استعمال ہوا تھا۔ اس فرق نے فرنس آئل اور ڈیزل سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت بڑھنے کا خطرہ پیدا کیا۔ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ آر ایل این جی کی دستیابی برقرار رکھنا بجلی کے نظام کے لیے اہم ہے کیونکہ گیس کی مزید کمی مہنگے مائع ایندھن پر انحصار بڑھا سکتی ہے۔ صارفین کے لیے اصل اثر ریگولیٹری منظوری اور متعلقہ بلنگ قواعد کے بعد سامنے آئے گا۔