اسلام آباد: وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے پاکستان میں شارک کے تحفظ اور انتظام کے لیے پہلے 10 سالہ قومی ایکشن پلان کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے ساتھ پائیدار ماہی گیری کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ نیشنل پلان آف ایکشن فار دی کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ آف شارکس پاکستان 2025-2035 کو اگلی دہائی میں تین مراحل میں نافذ کیا جائے گا۔
وزارت کے مطابق منصوبے پر عمل درآمد کی قیادت میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کرے گا جبکہ ایک کثیر فریقی قومی مشاورتی کمیٹی نگرانی کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ ابتدائی پانچ برسوں کے لیے اندازاً 3.8 سے 5 ملین ڈالر درکار ہوں گے، جن کا انتظام سرکاری وسائل، بین الاقوامی عطیہ دہندگان اور نجی شعبے کی شراکت سے کیا جائے گا۔
منصوبے کے بنیادی اہداف میں شارک کی آبادی بحال کرنا، غیر قانونی شارک فِننگ کا خاتمہ، غیر ارادی شکار یا بائی کیچ سے ہونے والی اموات کم کرنا، اہم سمندری مساکن کا تحفظ، ساحلی برادریوں کے روزگار میں بہتری اور 2035 تک شارک ماہی گیری کو زیادہ پائیدار بنانا شامل ہیں۔ اس مقصد کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرنے، سائنسی تحقیق، فشریز مینجمنٹ اور نفاذ کے نظام کو بہتر بنانے کی تجاویز دی گئی ہیں۔
ایکشن پلان میں ’فِنز نیچرلی اٹیچڈ‘ پالیسی کو لازمی بنانے، مخصوص انواع کے لیے تحفظاتی ضوابط، شارک سینکچوریز کے قیام، مینگرووز کی بحالی اور مختلف ماہی گیری سرگرمیوں میں بائی کیچ کم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ ساحلی ماہی گیر برادریوں کو متبادل یا بہتر روزگار کے ذرائع سے جوڑنے اور انہیں فیصلہ سازی میں شامل کرنے کو بھی منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔
حکام کے مطابق پیش رفت کو سالانہ کارکردگی اشاریوں سے جانچا جائے گا۔ ان میں لینڈنگ سائٹس کی نگرانی، اسٹاک اسیسمنٹ کی تکمیل، ویسل مانیٹرنگ سسٹمز کی تنصیب اور بائی کیچ اموات میں کمی جیسے پیمانے شامل ہوں گے۔ ہر تین سال بعد منصوبے کا باضابطہ جائزہ لینے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ نفاذ کے دوران حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق پالیسی میں ضروری تبدیلیاں کی جا سکیں۔
یہ منصوبہ شارک کے ساتھ ریز، اسکیٹس اور چیمیرا سمیت پاکستانی پانیوں میں پائی جانے والی تمام کونڈریک تھیئن انواع کا احاطہ کرتا ہے، اگرچہ خصوصی توجہ ان شارک اقسام پر ہوگی جن کا براہ راست شکار ہوتا ہے یا جو بڑی تعداد میں بائی کیچ کا حصہ بنتی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فریم ورک کے تحت قائم ہونے والے ڈیٹا، نگرانی اور نفاذ کے نظام سے دوسری حساس سمندری انواع کو بھی فائدہ ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ منصوبہ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے شارک تحفظ سے متعلق بین الاقوامی ایکشن پلان اور دیگر عالمی بہترین طریقوں سے ہم آہنگ رکھا گیا ہے۔ پاکستان بطور شارک ماہی گیری رکھنے والا ملک بین الاقوامی فشریز ذمہ داریوں کے تحت اپنے سمندری وسائل کے پائیدار انتظام کا پابند ہے، اور حکومت کے مطابق یہ قومی منصوبہ اسی ذمہ داری کو عملی شکل دینے کی کوشش ہے۔




