اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے پاکستان اور سنگاپور کے درمیان براہ راست پروازوں کی ممکنہ بحالی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ 30 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے بعد اسحاق ڈار نے کہا کہ فضائی رابطہ بحال ہونے سے کاروباری سفر اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان براہ راست روابط کو سہولت مل سکتی ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا۔ پاکستان نے سنگاپور کے ساتھ دیرینہ دوستانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے اقتصادی روابط کو موجودہ سیاسی اور سفارتی تعلقات کے مطابق وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی۔ سنگاپور جنوب مشرقی ایشیا کا اہم مالیاتی، تجارتی اور لاجسٹکس مرکز ہے، اس لیے براہ راست فضائی رابطے اور کاروباری سہولت میں بہتری کو دوطرفہ تجارت کے لیے عملی اہمیت حاصل ہو سکتی ہے۔

ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور بھی زیر بحث آئے۔ پاکستانی اور سنگاپوری قیادت نے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ سنگاپور کے وزیر خارجہ کا دورہ ایسے وقت ہوا ہے جب خلیجی خطے کی کشیدگی اور عالمی تجارت میں رکاوٹوں کے باعث ایشیائی ممالک توانائی، رسد اور تجارتی راستوں کے تحفظ پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ پاکستانی حکام نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کے لیے اپنی کوششوں کا ذکر کیا۔

براہ راست پروازوں کے بارے میں گفتگو کو فی الحال ممکنہ بحالی پر مشاورت سمجھنا ضروری ہے؛ دستیاب سرکاری اور معتبر رپورٹوں میں کسی ایئرلائن، آغاز کی تاریخ، روٹ فریکوئنسی یا حتمی آپریشنل منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اسی طرح تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق تعاون کی سمت کی نشاندہی کرتا ہے، مگر مخصوص سرمایہ کاری رقم یا نئے تجارتی معاہدے کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ دونوں ملکوں کے درمیان عملی پیش رفت آئندہ فضائی، تجارتی اور ادارہ جاتی فیصلوں سے واضح ہوگی۔