بھارت کی شمالی ہمالیائی ریاست اتراکھنڈ میں ایک مسافر ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہونے سے اس میں سوار تمام چھ افراد ہلاک ہوگئے۔ بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی نے ریاستی شہری ہوا بازی کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ مرنے والوں میں پانچ مسافر اور ہیلی کاپٹر کا پائلٹ شامل ہیں۔

اتراکھنڈ سول ایوی ایشن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مطابق ہیلی کاپٹر معروف ہندو زیارت گاہ بدریناتھ سے ریاستی دارالحکومت دہرادون کی جانب پرواز کر رہا تھا۔ پرواز کے دوران جوشی مٹھ وادی کے اوپر اس کا مواصلاتی رابطہ منقطع ہوگیا اور اسی وقت ٹریکنگ نظام بھی اسے مانیٹر نہیں کر سکا۔ بعد ازاں حادثے کی اطلاع ملنے پر مقامی انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیموں اور دیگر امدادی اہلکاروں نے مشترکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

ریاستی حکام کے مطابق جائے حادثہ دشوار گزار پہاڑی علاقے میں واقع تھا۔ مقامی ٹیلی وژن چینلز پر نشر ہونے والی اطلاعات میں حادثے کے مقام سے دھواں اور آگ دکھائی دینے کا ذکر کیا گیا، جبکہ امدادی ٹیمیں فوری طور پر علاقے کی طرف روانہ کی گئیں۔ حکام نے بعد میں تصدیق کی کہ ہیلی کاپٹر میں موجود کوئی شخص زندہ نہیں بچا۔

حادثے کا شکار ہیلی کاپٹر ٹرانس بھارت ایوی ایشن کے زیر انتظام تھا۔ اتراکھنڈ کے شہری ہوا بازی ادارے نے واقعے کے بعد کمپنی کے پورے بیڑے کو احتیاطی اقدام کے طور پر گراؤنڈ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ حادثے کی وجوہات کی جانچ اور آپریشنل حفاظت کا جائزہ لینے تک پروازیں روکنے کے لیے کیا گیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کمپنی سے فوری ردعمل حاصل نہیں ہو سکا۔

حادثے کی حتمی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔ مواصلاتی رابطہ اور ٹریکنگ ختم ہونا واقعے سے پہلے پیش آنے والی صورتحال کا حصہ تھا، تاہم اسے بذات خود حادثے کی ثابت شدہ وجہ قرار نہیں دیا گیا۔ متعلقہ حکام کی تحقیقات ہی یہ طے کریں گی کہ موسم، تکنیکی خرابی، انسانی عوامل یا کوئی دوسری وجہ حادثے میں کس حد تک شامل تھی۔

اتراکھنڈ کے پہاڑی علاقوں میں مذہبی سیاحت کے دوران ہیلی کاپٹر خدمات دور دراز مقامات تک رسائی کے لیے استعمال ہوتی ہیں، لیکن بلند پہاڑ، تیزی سے بدلتا موسم اور محدود زمینی رسائی فضائی آپریشن کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ تازہ واقعے کے بعد ریاست میں تجارتی ہیلی کاپٹر پروازوں کی حفاظتی نگرانی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔