ویٹیکن نے تصدیق کی ہے کہ پوپ لیو چہاردہم نے امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں اپنا ووٹ ڈاک کے ذریعے جمع کرا دیا ہے۔ شکاگو میں پیدا ہونے والے پوپ امریکی شہری ہیں اور ہولی سی پریس آفس کے مطابق انہوں نے شہری کی حیثیت سے اپنے ووٹ کے حق کو استعمال کرتے ہوئے شکاگو میں میل اِن بیلٹ بھیجا۔
ویٹیکن نیوز کے مطابق پوپ کا مؤقف ہے کہ جمہوری عمل میں حصہ لینا شہریوں کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ ہولی سی کے بیان میں کہا گیا کہ لیو چہاردہم جب بھی اہل رہے، انہوں نے امریکی شہری کے طور پر ووٹ دینے کا حق استعمال کیا۔ بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ پیرو میں طویل عرصہ قیام کے دوران بھی وہ اہلیت کے مطابق انتخابی عمل میں حصہ لیتے رہے تھے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات 3 نومبر 2026 کو ہونے ہیں۔ ان انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں کے ساتھ سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہوگا، جبکہ 36 ریاستوں میں گورنروں کے انتخابات بھی ہوں گے۔ بیرون ملک مقیم اہل امریکی شہری وفاقی انتخابات میں absentee یا ڈاک کے ذریعے بیلٹ استعمال کر سکتے ہیں۔
لیو چہاردہم، جن کا سابق نام رابرٹ فرانسس پریوسٹ ہے، کیتھولک چرچ کے پہلے امریکی نژاد پوپ ہیں۔ وہ امریکا کے ساتھ پیرو کی شہریت بھی رکھتے ہیں اور پوپ منتخب ہونے سے پہلے کئی برس پیرو میں مشنری اور بعد میں بشپ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ ویٹیکن کی تصدیق نے ان کی امریکی شہریت کے عملی انتخابی استعمال کو غیر معمولی توجہ دی ہے۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق کسی موجودہ پوپ کے سیاسی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کا یہ پہلا معلوم واقعہ ہے۔ اس تاریخی وصف کو دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر بیان کیا جا رہا ہے، نہ کہ اس دعوے کے طور پر کہ ماضی کے ہر پوپ کے نجی انتخابی عمل کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔
پوپ لیو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان امیگریشن اور ایران سے متعلق امریکی پالیسی سمیت بعض معاملات پر عوامی اختلاف بھی سامنے آ چکا ہے۔ تاہم ویٹیکن کے تازہ بیان نے پوپ کے ووٹ کو کسی امیدوار کی حمایت کے بجائے شہری شرکت کے اصول سے جوڑا ہے، اور یہ نہیں بتایا گیا کہ انہوں نے کس امیدوار یا جماعت کے حق میں ووٹ دیا۔

