کراچی: پاکستان میں ضروری اشیا کی قلیل مدتی قیمتوں کی پیمائش کرنے والا حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) 3 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.65 فیصد بڑھ گیا، جبکہ سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 8.35 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ایک ہفتہ قبل سالانہ ایس پی آئی 9.04 فیصد تھا، اس لیے سال بہ سال رفتار میں کمی آئی ہے، اگرچہ تازہ ہفتے میں صارفین کو متعدد اشیا کی نئی قیمتوں کا دباؤ برداشت کرنا پڑا۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ایس پی آئی میں 51 ضروری اشیا شامل ہوتی ہیں اور ان کی قیمتیں ملک کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے جمع کی جاتی ہیں۔ یہ اشاریہ خوراک، ایندھن اور روزمرہ استعمال کی منتخب اشیا میں مختصر مدت کی قیمتوں کی تبدیلی کا فوری اندازہ فراہم کرتا ہے اور مجموعی مہنگائی کے رجحان کو سمجھنے کے لیے ایک اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

تازہ ہفتے میں پیاز کی قیمت میں سب سے نمایاں 26.30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ٹماٹر 2.55 فیصد، آلو 0.96 فیصد، گندم کا آٹا 0.88 فیصد اور مرغی 0.85 فیصد مہنگی ہوئی۔ ان اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سالانہ شرح میں کمی کے باوجود گھریلو بجٹ پر ہفتہ وار سطح پر دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

سالانہ شرح کا 9.04 فیصد سے 8.35 فیصد تک آنا بنیادی طور پر پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں قیمتوں کی رفتار میں نسبتاً نرمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجموعی قیمتیں کم ہو گئی ہیں؛ ایس پی آئی کی ہفتہ وار 0.65 فیصد مثبت تبدیلی بتاتی ہے کہ زیر جائزہ ہفتے میں منتخب ضروری اشیا کی اوسط لاگت پچھلے ہفتے سے بڑھی۔

قلیل مدتی مہنگائی میں خوراک کی قیمتیں موسم، رسد، منڈی تک ترسیل، درآمدی لاگت اور مقامی پیداوار جیسے عوامل سے تیزی سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس لیے کسی ایک ہفتے کی بڑی تبدیلی، خصوصاً سبزیوں جیسی اشیا میں، مستقل طویل مدتی رجحان ثابت نہیں کرتی۔ آنے والے ہفتوں کے اعداد و شمار سے واضح ہوگا کہ موجودہ اضافہ عارضی رسدی دباؤ تھا یا وسیع تر قیمتوں کے رجحان کا حصہ بنتا ہے۔

تازہ ایس پی آئی اعداد و شمار پالیسی سازوں اور کاروباری حلقوں کے لیے بھی اہم ہیں کیونکہ ضروری اشیا کی قیمتیں عوامی قوت خرید، اجرتوں کے حقیقی اثر اور صارفین کے اعتماد پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ سالانہ شرح میں کمی ایک مثبت اشارہ ہے، مگر ہفتہ وار اضافہ بتاتا ہے کہ مہنگائی کے دباؤ کی نوعیت ابھی مخلوط ہے۔