اسلام آباد: پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں ریٹیل سرمایہ کاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ستمبر 2026 کے اختتام تک منفرد سرمایہ کار شناختی نمبرز، یعنی یو آئی اینز، 656,218 تک پہنچ گئے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 48 فیصد زیادہ ہے، جبکہ ڈیجیٹل ذرائع سے اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت نوجوان نسل کی مارکیٹ تک رسائی آسان بنا رہی ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران 193,147 نئے اکاؤنٹس کھولے گئے، جن میں صرف ستمبر میں 25,281 اکاؤنٹس شامل تھے۔ یو آئی اینز اور نئے اکاؤنٹس کی تعداد دو مختلف پیمانے ہیں: یو آئی این کسی سرمایہ کار کی منفرد شناخت کرتا ہے، جبکہ اکاؤنٹ کھولنے کے اعداد و شمار نئی رجسٹریشن کو ظاہر کرتے ہیں، اس لیے دونوں اعداد کو براہ راست ایک دوسرے کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔
مارکیٹ میں آنے والے نئے سرمایہ کاروں میں ٹیکنالوجی سے مانوس جنریشن زیڈ اور ملینیئلز کا کردار نمایاں بتایا جا رہا ہے۔ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کے مطابق ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے اکاؤنٹ کھولنے اور سرمایہ کاری کے عمل کو نوجوانوں کے لیے زیادہ آسان بنایا ہے، جبکہ بروقت اور شفاف معلومات سرمایہ کاروں کو مواقع کے ساتھ خطرات کا جائزہ لینے میں مدد دیتی ہیں۔
نئی رجسٹریشن کا بڑا حصہ کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد سے آ رہا ہے، تاہم ڈیجیٹل بروکریج ایپس اور بینکاری نظام کے انضمام سے دوسرے شہروں میں بھی رسائی بڑھی ہے۔ صنفی فرق اب بھی نمایاں ہے: رپورٹ کے مطابق نئے اکاؤنٹس میں تقریباً 87 فیصد مردوں اور 13 فیصد خواتین کے ہیں، جس سے مالیاتی تعلیم اور مارکیٹ تک رسائی میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کی ضرورت سامنے آتی ہے۔
ایس ای سی پی نے سرمایہ کاروں کی مجموعی تعداد 25 لاکھ تک لے جانے کا ہدف رکھا ہے اور تعلیمی اداروں میں مالیاتی آگاہی بڑھانے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ ریگولیٹر نوجوانوں کے لیے آن لائن مالیاتی تعلیم کے کورسز فراہم کر رہا ہے، جبکہ ایک موبائل فون پر مبنی آسان اکاؤنٹ کھولنے کے نظام پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ مجوزہ طریقہ کار میں بینک اکاؤنٹ سے موجود شناختی معلومات استعمال کر کے طویل کے وائی سی عمل کو مختصر کرنے کا تصور شامل ہے۔
نوجوان سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ نے گزشتہ مالی سال میں مضبوط کارکردگی دکھائی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس مالی سال 2025-26 میں تقریباً 43.5 فیصد بڑھ کر 30 جون کو 180,302 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ تاہم ماضی کی تیزی مستقبل کے منافع کی ضمانت نہیں ہوتی اور اسٹاک مارکیٹ میں قیمتیں تیزی سے گر بھی سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وسیع ریٹیل سرمایہ کار بنیاد مارکیٹ کی لیکویڈیٹی بہتر کر سکتی ہے اور کمپنیوں کو ملکی بچت سے سرمایہ حاصل کرنے کے زیادہ مواقع دے سکتی ہے، لیکن پائیدار توسیع کے لیے سرمایہ کاروں کی تعلیم، شفافیت، بروکرز کی ذمہ داری اور ریگولیٹری تحفظ ضروری ہوں گے۔ اکاؤنٹس کی تعداد میں اضافہ تبھی دیرپا پیش رفت بنے گا جب نئے سرمایہ کار قیاس آرائی اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے فرق کو سمجھتے ہوئے اعتماد کے ساتھ مارکیٹ میں حصہ لے سکیں۔

