اسلام آباد: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت 12 سے 13 ملین مستحق افراد کو ہدفی سبسڈی کے ذریعے جنگ سے پہلے کی قیمت پر پٹرول فراہم کر رہی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیر نے یہ بات توانائی کی موجودہ صورتحال اور حکومت کے حفاظتی اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے کہی۔
وزیر پیٹرولیم کے بیان کے مطابق سبسڈی کا مقصد عالمی اور علاقائی حالات سے پیدا ہونے والے ایندھن کی قیمتوں کے دباؤ سے کم آمدنی والے اور مستحق شہریوں کو جزوی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مستفید ہونے والوں کی تعداد 12 سے 13 ملین بتائی۔ یہ حکومتی دعویٰ ہے؛ پروگرام کے مجموعی مالی حجم، فی فرد استعمال، ادائیگی کے طریقہ کار اور مکمل آزادانہ نتائج سے متعلق تفصیلات رپورٹ میں محدود ہیں۔
ہدفی ایندھن سبسڈی عمومی قیمت کم رکھنے سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ اس میں امداد مخصوص اہل افراد یا گھرانوں تک محدود رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طریقے کا مقصد سرکاری مالی بوجھ کو قابو میں رکھتے ہوئے زیادہ متاثرہ طبقوں کو ریلیف دینا ہوتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی اہل افراد کی درست شناخت، ادائیگی یا رعایت کے شفاف نظام اور غلط شمولیت یا اخراج کو کم کرنے پر منحصر ہوتی ہے۔
پاکستان درآمدی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات پر نمایاں انحصار رکھتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں، شپنگ لاگت، شرح مبادلہ اور علاقائی تنازعات میں تبدیلیاں مقامی ایندھن کی لاگت پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کو ایک طرف صارفین کو ریلیف دینے اور دوسری طرف مالیاتی خسارے اور توانائی شعبے کے واجبات کو محدود رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔
علی پرویز ملک کے مطابق حکومت نے موجودہ توانائی بحران کے اثرات کو سنبھالنے کے لیے ہدفی اقدامات کیے ہیں۔ پٹرول کی سبسڈی کے بارے میں اصل پالیسی اثر کا اندازہ اس وقت زیادہ واضح ہوگا جب حکومت مستفید افراد کی تصدیق، مجموعی مالی لاگت، پروگرام کی مدت اور استعمال سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار جاری کرے گی۔
توانائی کی قیمتیں ٹرانسپورٹ، خوراک کی ترسیل، صنعت اور مہنگائی پر وسیع اثر ڈالتی ہیں۔ اسی وجہ سے ہدفی سبسڈی کا معاشی فائدہ صرف پمپ پر ادا کی جانے والی قیمت تک محدود نہیں رہتا، لیکن طویل مدت میں اس کے مالی اثرات بھی اہم ہوتے ہیں۔ حکومت کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ امداد واقعی ضرورت مند شہریوں تک پہنچے اور پروگرام کے اخراجات قابل برداشت اور شفاف رہیں۔

