وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی فنڈنگ ذرائع کو متنوع بنانے کے لیے سکوک، چین کی مارکیٹ میں پانڈا بانڈ اور روپے میں جاری مگر ڈالر میں سیٹل ہونے والے مالی آلات پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ حکمت عملی پاکستان کے 3 ارب ڈالر کے کامیاب ڈوئل ٹرانچ یورو بانڈ اجرا کے بعد بیان کی۔

حکومت کا مقصد مختلف کرنسی، مدت اور سرمایہ کار گروپوں تک رسائی پیدا کرنا ہے تاکہ کسی ایک قرض مارکیٹ پر انحصار کم ہو۔ پانڈا بانڈ چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ میں رینمنبی میں جاری کیا جاتا ہے، جبکہ سکوک اسلامی مالیاتی اصولوں کے تحت اثاثہ سے منسلک سرمایہ کاری کا آلہ ہوتا ہے۔

اورنگزیب کے مطابق نئی فنڈنگ کا ایک مقصد مہنگے قلیل مدتی قرض کی قبل از وقت ادائیگی اور رول اوور خطرات کم کرنا ہے۔ رول اوور رسک اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بڑی مقدار میں قرض مختصر مدت میں دوبارہ فنانس کرنا پڑے اور مارکیٹ حالات ناموافق ہوں۔

فنڈنگ کے ذرائع متنوع ہونے سے حکومت کو مختلف سرمایہ کاروں اور میچورٹی پروفائل تک رسائی مل سکتی ہے، لیکن ہر نئے بانڈ کی اصل افادیت اس کی شرح سود، کرنسی خطرے اور شرائط سے طے ہوگی۔ سستا طویل مدتی قرض مہنگے مختصر قرض کی جگہ لے تو قرض پورٹ فولیو بہتر ہو سکتا ہے۔

یہ منصوبے ابھی مختلف تیاری کے مراحل میں ہیں اور ہر آلے کا حتمی حجم یا اجرا کی تاریخ الگ منظوری اور مارکیٹ حالات سے مشروط ہوگی۔ پاکستان کی قرض حکمت عملی کی کامیابی صرف نئے قرض حاصل کرنے سے نہیں بلکہ اوسط لاگت، میچورٹی اور مجموعی قرض کی پائیداری بہتر کرنے سے ناپی جائے گی۔