کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کے دباؤ کے باعث کے ایس ای-100 انڈیکس 1,690.40 پوائنٹس یا 0.96 فیصد گر کر 174,776.60 پوائنٹس پر بند ہوا اور 175 ہزار کی نفسیاتی سطح سے نیچے چلا گیا۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں نے اس کمزوری کو مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کشیدگی، عالمی تیل قیمتوں میں اضافے اور درآمدی توانائی پر پاکستان کے انحصار سے پیدا ہونے والی معاشی تشویش سے جوڑا۔

کاروباری سیشن کے دوران انڈیکس 175,841 پوائنٹس کی بلند ترین اور 174,562 پوائنٹس کی کم ترین سطح کے درمیان رہا۔ مارکیٹ میں دباؤ وسیع تھا اور بڑے بینکوں، توانائی اور صنعتی کمپنیوں کے حصص نے انڈیکس پر منفی اثر ڈالا۔ دستیاب مارکیٹ رپورٹ کے مطابق میزان بینک، یونائیٹڈ بینک، پاکستان پیٹرولیم، فوجی فرٹیلائزر اور لکی سیمنٹ نے مجموعی طور پر تقریباً 604 پوائنٹس منفی حصہ ڈالا۔

دوسری جانب بعض کمپنیوں نے محدود سہارا فراہم کیا۔ اینگرو فرٹیلائزر، تھل لمیٹڈ اور عسکری بینک نے مجموعی طور پر تقریباً 139 پوائنٹس کا مثبت حصہ ڈالا، لیکن یہ اضافہ مجموعی فروخت کے دباؤ کو متوازن نہ کر سکا۔ سرمایہ کاروں کی شرکت بھی کم ہوئی اور کاروباری حجم تقریباً 22.21 فیصد کم ہو کر 610 ملین حصص رہا، جبکہ کاروباری مالیت 14.83 فیصد گھٹ کر 31.8 ارب روپے رہی۔

پاکستان کے لیے عالمی تیل قیمتوں میں اضافہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے راستے توانائی کی ترسیل میں خطرے یا عالمی خام تیل میں تیز اضافے سے درآمدی بل، مقامی ایندھن قیمتوں، مہنگائی اور زرمبادلہ کی ضروریات پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ یہی عوامل ایکویٹی سرمایہ کاروں کے مستقبل کے منافع اور شرح سود سے متعلق اندازوں کو متاثر کرتے ہیں۔

تاہم ایک روز کی مارکیٹ گراوٹ کو طویل مدتی رجحان کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسٹاک انڈیکس روزانہ ملکی و عالمی خبروں، کمپنی نتائج، شرح سود، کرنسی اور سرمایہ کاروں کی پوزیشننگ کے مطابق بدلتا ہے۔ موجودہ سیشن میں جغرافیائی خطرہ نمایاں محرک رہا، جبکہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمت، علاقائی صورتحال اور ملکی معاشی اشاریے مارکیٹ کی سمت کے لیے اہم رہیں گے۔

تازہ بندش کے مطابق کے ایس ای-100 کی سطح 174,776.60 ہے۔ مارکیٹ میں آئندہ حرکت کے بارے میں کوئی یقینی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، اس لیے اس رپورٹ کو سرمایہ کاری مشورہ نہیں بلکہ ایک مخصوص تجارتی دن کی مصدقہ مارکیٹ پیش رفت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔